عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي نَعَامَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ: كَيْفَ أَنْتُمْ؟ أَوَ قَالَ: كَيْفَ أَنْتَ، " إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ وَقْتِهَا، فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، ثُمَّ إِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلِّ مَعَهُمْ، فَإِنَّهَا زِيَادَةُ خَيْرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابونعامہ نے عبداللہ بن صامت سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں کا کیا حال ہو گا“ یا فرمایا: ”تمہاری کیفیت کیا ہو گی جب تم ایسے لوگوں میں رہ جاؤ گے جو نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کریں گے؟ تم وقت پر نماز پڑھ لینا، پھر اگر (تمہاری موجودگی میں) نماز کی اقامت ہو تو تم ان کے ساتھ (بھی) پڑھ لینا کیونکہ یہ نیکی میں اضافہ ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1470]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة