زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ مَقَامَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ، أَنْ مَكَانَكُمْ فَخَرَجَ، وَقَدِ اغْتَسَلَ، وَرَأْسُهُ يَنْطُفُ الْمَاءَ، فَصَلَّى بِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب نے بیان کیا کہ ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی، (کہا): ابوعمرو، یعنی اوزاعی نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں زہری نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی، کہا: نماز کی اقامت کہہ دی گئی، لوگوں نے اپنی صفیں باندھ لیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لا کر اپنی جگہ پر کھڑے ہو گئے پھر آپ نے لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا: ”اپنی جگہ پر رہو۔“ اور خود (مسجد سے) باہر نکل گئے، پھر (آئے تو) آپ غسل فرما چکے تھے اور آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1368]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة