هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقُمْنَا، فَعَدَّلْنَا الصُّفُوفَ، قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ، قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، ذَكَرَ، فَانْصَرَفَ، وَقَالَ لَنَا: مَكَانَكُمْ، فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا نَنْتَظِرُهُ، حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا، وَقَدِ اغْتَسَلَ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً، فَكَبَّرَ، فَصَلَّى بِنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں) اقامت کہی گئی، ہم اپنی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آنے سے پہلے ہی کھڑے ہو گئے اور اپنے مصلے پر کھڑے ہو گئے، آپ نے اللہ اکبر نہیں کہا تھا کہ آپ کو (کچھ) یاد آگیا، اس پر آپ واپس پلٹ گئے اور ہمیں فرمایا: ”اپنی جگہ پر رہو۔“ ہم آپ کے انتظار میں کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ تشریف لے آئے، آپ غسل کیے ہوئے تھے اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ہمیں نماز پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1367]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة