بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 114 — باب: اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کا بیان۔
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: اسلام کے بڑے بڑے ارکان اور ستونوں کا بیان۔ حدیث 114
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، حَنْظَلَةُ ، عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ ، لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر
وحَدَّثَنِي ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ ، يُحَدِّثُ طَاوُسًا، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَر : أَلَا تَغْزُو؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الإِسْلَامَ بُنِيَ عَلَى خَمْسٍ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَحَجِّ الْبَيْتِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عکرمہ بن خالد، طاؤس کو حدیث سنا رہے تھے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ جہاد میں حصہ نہیں لیتے؟ انہوں نے جواب دیا: بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: (اس حقیقت کی) گواہی دینے پر کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنے، زکاۃ ادا کرنے، رمضان کے روزے رکھنے اور بیت اللہ کا حج کرنے پر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 114]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (113) باب پر واپس اگلی حدیث (115) →