بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 100 — باب: نمازوں کا بیان جو اسلام کا ایک رکن ہے۔
کتب صحیح مسلم ایمان کے احکام و مسائل باب: نمازوں کا بیان جو اسلام کا ایک رکن ہے۔ حدیث 100
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، أَبِي سُهَيْلٍ ، أَبِيهِ ، طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ جَمِيلِ بْنِ طَرِيفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ، ثَائِرُ الرَّأْسِ، نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ، حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ"، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ فَقَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ: لَا، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ، قَالَ: فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ، وَهُوَ يَقُولُ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک بن انس نے ابوسہیل سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اہل نجد میں سے ایک آدمی آیا، اس کے بال پراگندہ تھے، ہم اس کی ہلکی سی آواز سن رہے تھے لیکن جو کچھ وہ کہہ رہا تھا ہم اس کو سمجھ نہیں رہے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب آ گیا، وہ آپ سے اسلام کے بارے میں پوچھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض) ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا ان کے علاوہ (اور نمازیں) بھی میرے ذمے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں: الا یہ کہ تم نفلی نماز پڑھو اور ماہ رمضان کے روزے ہیں۔ اس نے پوچھا: کیا میرے ذمے اس کے علاوہ بھی (روزے) ہیں؟ فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفلی روزے رکھو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے زکاۃ کے بارے میں بتایا تو اس نے سوال کیا: کیا میرے ذمے اس کے سوا بھی کچھ ہے؟ آپ نے جواب دیا: نہیں، سوائے اس کے کہ تم اپنی مرضی سے (نفلی صدقہ) دو۔ (حضرت طلحہ نے) کہا: پھر وہ آدمی واپس ہوا تو کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! میں نہ اس پر کوئی اضافہ کروں گا نہ اس میں کوئی کمی کروں گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ فلاح پا گیا اگر اس نے سچ کر دکھایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 100]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (99) باب پر واپس اگلی حدیث (101) →