عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ، وَكَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ، فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: آلَيْتَ شَهْرًا، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیویوں کے ساتھ ایلاء کیا (یعنی قسم کھائی کہ آپ ان کے یہاں ایک مہینہ تک نہیں جائیں گے) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام پذیر رہے پھر وہاں سے اترے، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ نے ایلاء ایک مہینے کے لیے کیا تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مہینہ انتیس دن کا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6684]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة