بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ
کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں
Sahih al-Bukhari
Home کتب صحیح بخاری کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: اللہ تعالیٰ نے سورۃ المائدہ میں فرمایا ”اللہ تعالیٰ لغو قسموں پر تم کو نہیں پکڑے گا، البتہ ان قسموں پر پکڑے گا جنہیں تم پکے طور سے کھاؤ۔ پس اس کا کفارہ دس مسکینوں کو معمولی کھانا کھلانا ہے، اس اوسط کھانے کے مطابق جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا۔ پس جو شخص یہ چیزیں نہ پائے تو اس کے لیے تین دن کے روزے رکھنا ہے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جس وقت تم قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے حکموں کو کھول کر بیان کرتا ہے۔ شاید کہ تم شکر کرو۔
بَابُ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُمُ الأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} :
6621 – 6626
2
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوں قسم کھانا «وايم الله» اللہ کی قسم۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَايْمُ اللَّهِ»:
6627
3
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے۔
بَابُ كَيْفَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟
Q6628 – 6645
4
باب: اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھاؤ۔
بَابُ لاَ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ:
6646 – 6649
5
باب: لات و عزیٰ اور بتوں کی قسم نہ کھائے۔
بَابُ لاَ يُحْلَفُ بِاللاَّتِ وَالْعُزَّى وَلاَ بِالطَّوَاغِيتِ:
6650
6
باب: بن قسم دیئے قسم کھانا کیسا ہے۔
بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى الشَّيْءِ وَإِنْ لَمْ يُحَلَّفْ:
6651
7
باب: اس شخص کے بارے میں جس نے اسلام کے سوا اور کسی مذہب پر قسم کھائی۔
بَابُ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى مِلَّةِ الإِسْلاَمِ:
Q6652 – 6652
8
باب: یوں کہنا منع ہے کہ جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں (وہ ہو گا) اور کیا کوئی شخص یوں کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو اللہ کا آسرا ہے پھر آپ کا؟
بَابُ لاَ يَقُولُ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ. وَهَلْ يَقُولُ أَنَا بِاللَّهِ ثُمَّ بِكَ؟
6653
9
باب: اللہ پاک کا سورۃ النور میں ارشاد ”یہ منافق اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ} :
Q6654 – 6657
10
باب: اگر کسی نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں یا اللہ کے نام کے ساتھ گواہی دیتا ہوں۔
بَابُ إِذَا قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ، أَوْ شَهِدْتُ بِاللَّهِ:
6658
11
باب: جو شخص علی عہداللہ کہے تو کیا حکم ہے۔
بَابُ عَهْدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ:
6659 – 6660
12
باب: اللہ تعالیٰ کی عزت، اس کی صفات اور اس کے کلمات کی قسم کھانا۔
بَابُ الْحَلِفِ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ:
Q6661 – 6661
13
باب: کوئی شخص کہے کہ «لعمر الله» یعنی اللہ کی بقا کی قسم کھانا۔
بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ لَعَمْرُ اللَّهِ:
Q6662 – 6662
14
باب: سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ ”وہ تمہاری لغو قسموں کے بارے میں تم سے پکڑ نہیں کرے گا بلکہ ان قسموں کے بارے میں کرے گا جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہو گا اور اللہ بڑا ہی مغفرت کرنے والا بہت بردبار ہے“۔
بَابُ: {لاَ يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ} :
6663
15
باب: اگر قسم کھانے کے بعد بھولے سے اس کو توڑ ڈالے تو کفارہ لازم ہو گا یا نہیں۔
بَابُ إِذَا حَنِثَ نَاسِيًا فِي الأَيْمَانِ:
Q6664 – 6674
16
باب: قسموں کا بیان۔
بَابُ الْيَمِينِ الْغَمُوسِ:
Q6675 – 6675
17
باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ آل عمران میں فرمانا ”جو لوگ اللہ کا نام لے کر عہد کر کے قسمیں کھا کر اپنی قسموں کے بدلہ میں تھوڑی پونجی (دنیا کی مول لیتے ہیں) یہی وہ لوگ ہیں، جن کا آخرت میں کوئی حصہ نیک نہیں ہو گا“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً أُولَئِكَ لاَ خَلاَقَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ وَلاَ يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلاَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ} :
Q6676 – 6677
18
باب: ملک حاصل ہونے سے پہلے یا گناہ کی بات کے لیے یا غصہ کی حالت میں قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟
بَابُ الْيَمِينِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَفِي الْمَعْصِيَةِ، وَفِي الْغَضَبِ:
6678 – 6680
19
باب: جب کسی نے کہا کہ واللہ، میں آج بات نہیں کروں گا پھر اس نے نماز پڑھی، قرآن مجید کی تلاوت کی، تسبیح کی، حمد یا لا الہٰ الا اللہ کہا تو اس کا حکم اس کی نیت کے موافق ہو گا۔
بَابُ إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لاَ أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ. فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ، فَهْوَ عَلَى نِيَّتِهِ:
Q6681 – 6683
20
باب: جس نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائے گا اور مہینے 29 دن کا ہوا اور وہ اپنی عورت کے پاس گیا تو وہ حانث نہ ہو گا۔
بَابُ مَنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ شَهْرًا، وَكَانَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ:
6684
21
باب: اگر کسی نے قسم کھائی کہ نبیذ نہیں پئے گا پھر قسم کے بعد اس نے انگور کا پکا ہوا یا میٹھا پانی یا کوئی نشہ آور چیز یا انگور سے نچوڑا ہوا پانی پیا تو بعض لوگوں کے قول کے مطابق اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی، کیونکہ یہ چیزیں ان کے رائے میں نبیذ نہیں ہیں۔
بَابُ إِنْ حَلَفَ أَنْ لاَ يَشْرَبَ نَبِيذًا فَشَرِبَ طِلاَءً أَوْ سَكَرًا أَوْ عَصِيرًا، لَمْ يَحْنَثْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ، وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِذَةٍ عِنْدَهُ:
6685 – 6686
22
باب: جب کسی نے قسم کھائی کہ سالن نہیں کھائے گا پھر اس نے روٹی کھجور کے ساتھ کھائی یا کسی اور سالن کے طور پر استعمال ہو سکنے والی چیز کھائی (تو اس کو سالن ہی مانا جائے گا)۔
بَابُ إِذَا حَلَفَ أَنْ لاَ يَأْتَدِمَ، فَأَكَلَ تَمْرًا بِخُبْزٍ، وَمَا يَكُونُ مِنَ الأُدْمِ:
6687 – 6688
23
باب: قسموں میں نیت کا اعتبار ہو گا۔
بَابُ النِّيَّةِ فِي الأَيْمَانِ:
6689
24
باب: جب کوئی شخص اپنا مال نذر یا توبہ کے طور پر خیرات کر دے۔
بَابُ إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ وَالتَّوْبَةِ:
6690
25
باب: اگر کوئی شخص اپنا کھانا اپنے اوپر حرام کر لے۔
بَابُ إِذَا حَرَّمَ طَعَامَهُ:
Q6691 – 6691
26
باب: منت، نذر پوری کرنا واجب ہے۔
بَابُ الْوَفَاءِ بِالنَّذْرِ:
Q6692 – 6694
27
باب: اس شخص کا گناہ جو نذر پوری نہ کرے۔
بَابُ إِثْمِ مَنْ لاَ يَفِي بِالنَّذْرِ:
6695
28
باب: اسی نذر کا پورا کرنا لازم ہے جو عبادت اور اطاعت کے کام کے لیے کی جائے نہ کہ گناہ کے لیے۔
بَابُ النَّذْرِ فِي الطَّاعَةِ:
Q6696 – 6696
29
باب: جب کسی نے جاہلیت میں (اسلام لانے سے پہلے) کسی شخص سے بات نہ کرنے کی نذر مانی ہو یا قسم کھائی ہو پھر اسلام لایا ہو؟
بَابُ إِذَا نَذَرَ أَوْ حَلَفَ أَنْ لاَ يُكَلِّمَ إِنْسَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَسْلَمَ:
6697
30
باب: جو مر گیا اور اس پر کوئی نذر باقی رہ گئی۔
بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ نَذْرٌ:
Q6698 – 6699
31
باب: ایسی چیز کی نذر جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے۔
بَابُ النَّذْرِ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ وَفِي مَعْصِيَةٍ:
6700 – 6704
32
باب: جس نے کچھ خاص دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر مانی ہو پھر اتفاق سے ان دنوں میں بقر عید یا عید ہو گئی تو اس دن روزہ نہ رکھے (جمہور کا یہی قول ہے)۔
بَابُ مَنْ نَذَرَ أَنْ يَصُومَ أَيَّامًا فَوَافَقَ النَّحْرَ أَوِ الْفِطْرَ:
6705 – 6706
33
باب: کیا قسموں اور نذروں میں زین، بکریاں، کھیتی اور سامان بھی آتے ہیں؟
بَابُ هَلْ يَدْخُلُ فِي الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ الأَرْضُ وَالْغَنَمُ وَالزُّرُوعُ وَالأَمْتِعَةُ:
Q6707 – 6707