بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بھنا ہوا گوشت کھانا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: کھانوں کے بیان میں باب: بھنا ہوا گوشت کھانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q5400 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ سورة هود آية 69 أَيْ مَشْوِيٍّ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان «أن جاء بعجل حنيذ» پھر وہ بھنا ہوا بچھڑا لے کر آئے۔ لفظ «حنيذ» کے معنی بھنا ہوا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: Q5400]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 5400 صحیح بخاری
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ لِيَأْكُلَ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ ضَبٌّ، فَأَمْسَكَ يَدَهُ، فَقَالَ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ لَا يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ، فَأَكَلَ خَالِدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ". قَالَ مَالِكٌ: عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوامامہ بن سہل نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے بھنا ہوا ساہنہ پیش کیا گیا تو آپ اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے۔ اسی وقت آپ کو بتایا گیا کہ یہ ساہنہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس لیے طبیعت اسے گوارا نہیں کرتی۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ امام مالک نے ابن شہاب سے «ضب محنوذ‏.‏» (یعنی بھنا ہوا ساہنہ «ضب مشوی» کی جگہ «محنوذ‏.‏» نقل کیا، دونوں لفظوں کا ایک معنی ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5400]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة