بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جس عورت سے صحبت کی اس کا پورا مہر واجب ہو جانا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان باب: جس عورت سے صحبت کی اس کا پورا مہر واجب ہو جانا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q5349 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَكَيْفَ الدُّخُولُ، أَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَالْمَسِيسِ.
‏‏‏‏ اور صحبت کے کیا معنی ہیں اور دخول اور مساس سے پہلے طلاق دے دینے کا حکم (جماع کرنا یا خلوت ہو جانا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: Q5349]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 5349 صحیح بخاری
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، لِابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ:" رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ، وَقَالَ: اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ فَأَبَيَا، فَقَالَ: اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ فَأَبَيَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا"، قَالَ أَيُّوبُ: فَقَالَ لِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: فِي الْحَدِيثِ شَيْءٌ لَا أَرَاكَ تُحَدِّثُهُ، قَالَ: قَالَ الرَّجُلُ: مَالِي؟ قَالَ: لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَقَدْ دَخَلْتَ بِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَاذِبًا فَهُوَ أَبْعَدُ مِنْكَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے اور ان سے سعید بن کبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کرے گا؟ لیکن دونوں نے انکار کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے اسے جو تم میں سے ایک جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں؟ لیکن دونوں نے پھر توبہ سے انکار کیا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں جدائی کرا دی۔ ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے کہا کہ یہاں حدیث میں ایک چیز اور ہے میں نے تمہیں اسے بیان کرتے نہیں دیکھا۔ وہ یہ ہے کہ (تہمت لگانے والے) شوہر نے کہا تھا کہ میرا مال (مہر) دلوا دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ وہ تمہارا مال ہی نہیں رہا، اگر تم سچے بھی ہو تو تم اس سے خلوت کر چکے ہوا اور اگر جھوٹے ہو تب تو تم کو بطریق اولیٰ کچھ نہ ملنا چاہیئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5349]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة