فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْنِي أُمِّي، فَأَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، انس سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تھی۔ میری والدہ میرے پاس آئیں اور تنہا مجھے ایک گھر میں داخل کر دیا۔ پھر مجھے کسی چیز نے خوف نہیں دلایا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کہ آپ اچانک ہی میرے پاس چاشت کے وقت آ گئے۔ آپ نے مجھ سے ملاپ فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5160]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة