بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سفر میں نئی دلہن کے ساتھ خلوت کرنا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان باب: سفر میں نئی دلہن کے ساتھ خلوت کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 5159 صحیح بخاری
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ والْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ، أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے خبر دی، انہیں حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (راستہ میں) تین دن تک قیام کیا اور وہاں ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ خلوت کی۔ میں نے مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ولیمہ پر بلایا لیکن اس دعوت میں روٹی اور گوشت نہیں تھا۔ آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کھجور، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا اور یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمانوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں (کہا کہ) امہات المؤمنین میں سے ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں لونڈی ہی رکھا ہے (کیونکہ وہ بھی جنگ خیبر کے قیدیوں میں سے تھیں۔ اس پر بعض نے کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے لیے پردہ کرائیں پھر تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ ان کے لیے پردہ نہ کرائیں تو پھر وہ لونڈی کی حیثیت سے ہیں۔ جب سفر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے جگہ بنائی اور لوگوں کے اور ان کے درمیان پردہ ڈلوایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5159]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة