مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَوْلَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ، فَأَوْسَعَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا فَخَرَجَ كَمَا يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ، فَأَتَى حُجَرَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يَدْعُو وَيَدْعُونَ لَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَرَأَى رَجُلَيْنِ، فَرَجَعَ، لَا أَدْرِي أَخْبَرْتُهُ أَوْ أُخْبِرَ بِخُرُوجِهِمَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے حمیدی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور مسلمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ (کھانے سے فراغت کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لے گئے، جیسا کہ نکاح کے بعد آپ کا دستور تھا۔ پھر آپ امہات المؤمنین کے حجروں میں تشریف لے گئے۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی اور انہوں نے آپ کے لیے دعا کی۔ پھر آپ واپس تشریف لائے تو دو صحابہ کو دیکھا (کہ ابھی بیٹھے ہوئے تھے) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر تشریف لے گئے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ) مجھے پوری طرح یاد نہیں کہ میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر دی یا کسی اور نے خبر دی کہ وہ دونوں صحابی بھی چلے گئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5154]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة