بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اس تفصیل میں کہ جنبی گھر سے باہر نکل سکتا اور بازار وغیرہ جا سکتا ہے۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: غسل کے احکام و مسائل باب: اس تفصیل میں کہ جنبی گھر سے باہر نکل سکتا اور بازار وغیرہ جا سکتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q284 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ عَطَاءٌ: يَحْتَجِمُ الْجُنُبُ وَيُقَلِّمُ أَظْفَارَهُ وَيَحْلِقُ رَأْسَهُ وَإِنْ لَمْ يَتَوَضَّأْ.
‏‏‏‏ اور عطا نے کہا کہ جنبی پچھنا لگوا سکتا ہے، ناخن ترشوا سکتا ہے اور سر منڈوا سکتا ہے۔ اگرچہ وضو بھی نہ کیا ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: Q284]
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 284 صحیح بخاری
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ،" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي اللَّيْلَةِ الْوَاحِدَةِ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعُ نِسْوَةٍ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے، کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی تمام ازواج کے پاس ایک ہی رات میں تشریف لے گئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ازواج میں نو بیویاں تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 284]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 285 صحیح بخاری
عَيَّاشٌ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، حُمَيْدٌ ، بَكْرٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ؟ فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بکر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابورافع سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوئی۔ اس وقت میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 285]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة