عَيَّاشٌ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، حُمَيْدٌ ، بَكْرٍ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جُنُبٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى قَعَدَ، فَانْسَلَلْتُ فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هِرٍّ؟ فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أَبَا هِرٍّ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بکر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابورافع سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہا کہ میری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہوئی۔ اس وقت میں جنبی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلنے لگا۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے اور میں آہستہ سے اپنے گھر آیا اور غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا اے ابوہریرہ! کہاں چلے گئے تھے، میں نے واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! مومن تو نجس نہیں ہوتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 285]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة