بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
|
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اگر کوئی مالدار ہو کر کل پرسوں تک قرض ادا کرنے کا وعدہ کرے تو یہ ٹال مٹول کرنا نہیں سمجھا جائے گا۔
Sahih al-Bukhari
وَقَالَ جَابِرٌ: اشْتَدَّ الْغُرَمَاءُ فِي حُقُوقِهِمْ فِي دَيْنِ أَبِي، فَسَأَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْبَلُوا ثَمَرَ حَائِطِي، فَأَبَوْا، فَلَمْ يُعْطِهِمُ الْحَائِطَ وَلَمْ يَكْسِرْهُ لَهُمْ، وَقَالَ: سَأَغْدُو عَلَيْكَ غَدًا، فَغَدَا عَلَيْنَا حِينَ أَصْبَحَ، فَدَعَا فِي ثَمَرِهَا بِالْبَرَكَةِ فَقَضَيْتُهُمْ.
اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میرے والد کے قرض کے سلسلے میں قرض خواہوں نے اپنا حق مانگنے میں شدت اختیار کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سامنے یہ صورت رکھی کہ وہ میرے باغ کا میوہ قبول کر لیں۔ انہوں نے اس سے انکار کیا، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باغ نہیں دیا اور نہ پھل توڑوائے بلکہ فرمایا کہ میں تمہارے پاس کل آؤں گا۔ چنانچہ دوسرے دن صبح ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے اور پھلوں میں برکت کی دعا فرمائی۔ اور میں نے (اسی باغ سے) ان سب کا قرض ادا کر دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالْحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ/حدیث: Q2403]