بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا۔
Sahih al-Bukhari
کتب صحیح بخاری کتاب: روزے کے مسائل کا بیان باب: اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗

Q1933 حوالہ جات (References)

ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
وَقَالَ عَطَاءٌ: إِنِ اسْتَنْثَرَ فَدَخَلَ الْمَاءُ فِي حَلْقِهِ لَا بَأْسَ إِنْ لَمْ يَمْلِكْ، وَقَالَ الْحَسَنُ: إِنْ دَخَلَ حَلْقَهُ الذُّبَابُ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَقَالَ الْحَسَنُ، وَمُجَاهِدٌ: إِنْ جَامَعَ نَاسِيًا فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ.
‏‏‏‏ اور عطاء نے کہا کہ اگر کسی روزہ دار نے ناک میں پانی ڈالا اور وہ پانی حلق کے اندر چلا گیا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اگر اس کو نکال نہ سکے اور امام حسن بصری نے کہا کہ اگر روزہ دار کے حلق میں مکھی چلی گئی تو اس کا روزہ نہیں جاتا اور امام حسن بصری اور مجاہد نے کہا کہ اگر بھول کر جماع کر لے تو اس پر قضاء واجب نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1933]
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1933 صحیح بخاری
عَبْدَانُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، هِشَامٌ ، ابْنُ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہ ہمیں یزید بن زریع نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ابن سیرین نے بیان کیا، کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کیا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی بھول گیا اور کچھ کھا پی لیا تو اسے چاہئے کہ اپنا روزہ پورا کرے۔ کیونکہ اس کو اللہ نے کھلایا اور پلایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1933]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة