بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كِتَاب الصَّوْمِ
کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
Sahih al-Bukhari
Home کتب صحیح بخاری کتاب: روزے کے مسائل کا بیان
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان۔
بَابُ وُجُوبِ صَوْمِ رَمَضَانَ:
Q1891 – 1893
2
باب: روزہ کی فضیلت کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الصَّوْمِ:
1894
3
باب: روزہ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔
بَابُ الصَّوْمُ كَفَّارَةٌ:
1895
4
باب: روزہ داروں کے لیے ریان (نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان)۔
بَابُ الرَّيَّانُ لِلصَّائِمِينَ:
1896 – 1897
5
باب: رمضان کہا جائے یا ماہ رمضان؟ اور جن کے نزدیک دونوں لفظوں کی گنجائش ہے۔
بَابُ هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ وَمَنْ رَأَى كُلَّهُ وَاسِعًا:
Q1898 – 1900
6
باب: جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب۔
بَابُ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا وَنِيَّةً:
Q1901 – 1901
7
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے۔
بَابُ أَجْوَدُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي رَمَضَانَ:
1902
8
باب: جو شخص رمضان میں جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے۔
بَابُ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فِي الصَّوْمِ:
1903
9
باب: کوئی روزہ دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں؟
بَابُ هَلْ يَقُولُ إِنِّي صَائِمٌ. إِذَا شُتِمَ:
1904
10
باب: جو کنوارا ہو اور زنا سے ڈرے تو وہ روزہ رکھے۔
بَابُ الصَّوْمِ لِمَنْ خَافَ عَلَى نَفْسِهِ الْعُزُوبَةَ:
1905
11
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد جب تم (رمضان کا) چاند دیکھو تو روزے رکھو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزے رکھنا چھوڑ دو۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا»:
Q1906 – 1911
12
باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے۔
بَابُ شَهْرَا عِيدٍ لاَ يَنْقُصَانِ:
Q1912 – 1912
13
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہم لوگ حساب کتاب نہیں جانتے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نَكْتُبُ وَلاَ نَحْسُبُ»:
1913
14
باب: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں۔
بَابُ لاَ يَتَقَدَّمَنَّ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلاَ يَوْمَيْنِ:
1914
15
باب: اللہ عزوجل کا فرمانا کہ حلال کر دیا گیا ہے تمہارے لیے رمضان کا راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کرنا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو، اللہ نے معلوم کیا کہ تم چوری سے ایسا کرتے تھے، سو معاف کر دیا تم کو اور درگزر کی تم سے پس اب صحبت کرو ان سے اور ڈھونڈو جو لکھ دیا اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسمت میں (اولاد سے)۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ} :
1915
16
باب: (سورۃ البقرہ میں) اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ سحری کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ کھل جائے تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری (صبح صادق) سیاہ دھاری (یعنی صبح کاذب) سے پھر پورے کرو اپنے روزے سورج چھپنے تک۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ} :
Q1916 – 1917
17
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ بلال کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ يَمْنَعَنَّكُمْ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ»:
1918 – 1919
18
باب: سحری کھانے میں دیر کرنا۔
بَابُ تَأْخِيرِ السَّحُورِ:
1920
19
باب: سحری اور فجر کی نماز میں کتنا فاصلہ ہوتا تھا۔
بَابُ قَدْرِ كَمْ بَيْنَ السَّحُورِ وَصَلاَةِ الْفَجْرِ:
1921
20
باب: سحری کھانا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔
بَابُ بَرَكَةِ السَّحُورِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ:
Q1922 – 1923
21
باب: اگر کوئی شخص روزے کی نیت دن میں کرے تو درست ہے۔
بَابُ إِذَا نَوَى بِالنَّهَارِ صَوْمًا:
Q1924 – 1924
22
باب: روزہ دار صبح کو جنابت کی حالت میں اٹھے تو کیا حکم ہے۔
بَابُ الصَّائِمِ يُصْبِحُ جُنُبًا:
1925 – 1926
23
باب: روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ، مساس وغیرہ درست ہے۔
بَابُ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ:
Q1927 – 1927
24
باب: روزہ دار کا روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لینا۔
بَابُ الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ:
Q1928 – 1929
25
باب: روزہ دار کا غسل کرنا جائز ہے۔
بَابُ اغْتِسَالِ الصَّائِمِ:
Q1929 – 1932
26
باب: اگر روزہ دار بھول کر کھا پی لے تو روزہ نہیں جاتا۔
بَابُ الصَّائِمِ إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا:
Q1933 – 1933
27
باب: روزہ دار کے لیے تر یا خشک مسواک استعمال کرنی درست ہے۔
بَابُ سِوَاكِ الرَّطْبِ وَالْيَابِسِ لِلصَّائِمِ:
Q1934 – 1934
28
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جب کوئی وضو کرے تو ناک میں پانی ڈالے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْشِقْ بِمَنْخِرِهِ الْمَاءَ». وَلَمْ يُمَيِّزْ بَيْنَ الصَّائِمِ وَغَيْرِهِ:
Q1935 – 2
29
باب: جان بوجھ کر اگر رمضان میں کسی نے جماع کیا؟
بَابُ إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ:
Q1935 – 1935
30
باب: اگر کسی نے رمضان میں قصداً جماع کیا اور اس کے پاس کوئی چیز خیرات کے لیے بھی نہ ہو پھر اس کو کہیں سے خیرات مل جائے تو وہی کفارہ میں دیدے۔
بَابُ إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَيْءٌ فَتُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَلْيُكَفِّرْ:
1936
31
باب: رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ قصداً ہمبستر ہونے والا شخص کیا کرے؟
بَابُ الْمُجَامِعِ فِي رَمَضَانَ هَلْ يُطْعِمُ أَهْلَهُ مِنَ الْكَفَّارَةِ إِذَا كَانُوا مَحَاوِيجَ:
Q1937 – 1937
32
باب: روزہ دار کا پچھنا لگوانا اور قے کرنا کیسا ہے۔
بَابُ الْحِجَامَةِ وَالْقَيْءِ لِلصَّائِمِ:
Q1938 – 1940
33
باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔
بَابُ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ وَالإِفْطَارِ:
1941 – 1943
34
باب: جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے۔
بَابُ إِذَا صَامَ أَيَّامًا مِنْ رَمَضَانَ ثُمَّ سَافَرَ:
1944
35
باب:۔۔۔
بَابٌ:
1945
36
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا اس شخص کے لیے جس پر شدت گرمی کی وجہ سے سایہ کر دیا گیا تھا کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، وَاشْتَدَّ الْحَرُّ: «لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ»:
1946
37
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم (سفر میں) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے۔
بَابُ لَمْ يَعِبْ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الصَّوْمِ وَالإِفْطَارِ:
1947
38
باب: سفر میں لوگوں کو دکھا کر روزہ افطار کر ڈالنا۔
بَابُ مَنْ أَفْطَرَ فِي السَّفَرِ لِيَرَاهُ النَّاسُ:
1948
39
باب: اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں ان پر فدیہ ہے۔
بَابُ: {وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ} :
Q1949 – 1949
40
باب: رمضان کے قضاء روزے کب رکھے جائیں۔
بَابُ مَتَى يُقْضَى قَضَاءُ رَمَضَانَ:
Q1950 – 1950
41
باب: حیض والی عورت نہ نماز پڑھے اور نہ روزے رکھے۔
بَابُ الْحَائِضِ تَتْرُكُ الصَّوْمَ وَالصَّلاَةَ:
Q1951 – 1951
42
باب: اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں۔
بَابُ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ:
Q1952 – 1953
43
باب: روزہ کس وقت افطار کرے؟
بَابُ مَتَى يَحِلُّ فِطْرُ الصَّائِمِ:
Q1954 – 1955
44
باب: پانی وغیرہ جو چیز بھی پاس ہو اس سے روزہ افطار کر لینا چاہئے۔
بَابُ يُفْطِرُ بِمَا تَيَسَّرَ عَلَيْهِ بِالْمَاءِ وَغَيْرِهِ:
1956
45
باب: روزہ کھولنے میں جلدی کرنا۔
بَابُ تَعْجِيلِ الإِفْطَارِ:
1957 – 1958
46
باب: ایک شخص نے سورج غروب سمجھ کر روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نکل آیا۔
بَابُ إِذَا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ:
1959
47
باب: بچوں کے روزہ رکھنے کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ الصِّبْيَانِ:
Q1960 – 1960
48
باب: پے در پے ملا کر روزہ رکھنا اور جنہوں نے یہ کہا کہ رات میں روزہ نہیں ہو سکتا۔
بَابُ الْوِصَالِ، وَمَنْ قَالَ لَيْسَ فِي اللَّيْلِ صِيَامٌ:
Q1961 – 1964
49
باب: جو طے کے روزے بہت رکھے اس کو سزا دینے کا بیان۔
بَابُ التَّنْكِيلِ لِمَنْ أَكْثَرَ الْوِصَالَ:
Q1965 – 1966
50
باب: سحری تک وصال کا روزہ رکھنا۔
بَابُ الْوِصَالِ إِلَى السَّحَرِ:
1967
51
باب: کسی نے اپنے بھائی کو نفلی روزہ توڑنے کے لیے قسم دی۔
بَابُ مَنْ أَقْسَمَ عَلَى أَخِيهِ لِيُفْطِرَ فِي التَّطَوُّعِ وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِ قَضَاءً، إِذَا كَانَ أَوْفَقَ لَهُ:
Q1968 – 1968
52
باب: ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ شَعْبَانَ:
1969 – 1970
53
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان۔
بَابُ مَا يُذْكَرُ مِنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِفْطَارِهِ:
1971 – 1973
54
باب: مہمان کی خاطر سے نفل روزہ نہ رکھنا یا توڑ ڈالنا۔
بَابُ حَقِّ الضَّيْفِ فِي الصَّوْمِ:
1974
55
باب: روزے میں جسم کا حق۔
بَابُ حَقِّ الْجِسْمِ فِي الصَّوْمِ:
1975
56
باب: ہمیشہ روزہ رکھنا (جس کو «صوم الدهر» کہتے ہیں)۔
بَابُ صَوْمِ الدَّهْرِ:
1976
57
باب: روزہ میں بیوی اور بال بچوں کا حق۔
بَابُ حَقِّ الأَهْلِ فِي الصَّوْمِ:
Q1977 – 1977
58
باب: ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کا بیان۔
بَابُ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ:
1978
59
باب: داؤد علیہ السلام کا روزہ۔
بَابُ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ:
1979 – 1980
60
باب: ایام بیض کے روزے یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخوں کے روزے رکھنا۔
بَابُ صِيَامِ أَيَّامِ الْبِيضِ ثَلاَثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ:
1981
61
باب: جو شخص کسی کے ہاں بطور مہمان ملاقات کے لیے گیا اور ان کے یہاں جا کر اس نے اپنا نفلی روزہ نہیں توڑا۔
بَابُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَمْ يُفْطِرْ عِنْدَهُمْ:
1982
62
باب: مہینے کے آخر میں روزہ رکھنا۔
بَابُ الصَّوْمِ آخِرَ الشَّهْرِ:
1983
63
باب: جمعہ کے دن روزہ رکھنا اگر کسی نے خالی ایک جمعہ کے دن کے روزہ کی نیت کر لی تو اسے توڑ ڈالے۔
بَابُ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَإِذَا أَصْبَحَ صَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَعَلَيْهِ أَنْ يُفْطِرَ:
1984 – 1986
64
باب: روزے کے لیے کوئی دن مقرر کرنا۔
بَابُ هَلْ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الأَيَّامِ:
1987
65
باب: عرفہ کے دن روزہ رکھنا۔
بَابُ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ:
1988 – 1989
66
باب: عیدالفطر کے دن روزہ رکھنا۔
بَابُ صَوْمِ يَوْمِ الْفِطْرِ:
1990 – 1992
67
باب: عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا۔
بَابُ الصَّوْمِ يَوْمَ النَّحْرِ:
1993 – 1995
68
باب: ایام تشریق کے روزے رکھنا۔
بَابُ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ:
1996 – 1999
69
باب: اس بارے میں کہ عاشوراء کے دن کا روزہ کیسا ہے؟
بَابُ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ
2000 – 2007