مُسَدَّدٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، الْأَعْمَشِ ، مُنْذِرٍ الْثَّوْرِيِّ ، مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَلِيِّ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُنْذِرٍ الْثَّوْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ، قَالَ:" كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: فِيهِ الْوُضُوءُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن داؤد نے اعمش کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے منذر ثوری سے نقل کیا، انہوں نے محمد ابن الحنفیہ سے نقل کیا، وہ علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں ایسا شخص تھا جسے جریان مذی کی شکایت تھی، تو میں نے (اپنے شاگرد) مقداد کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دریافت کریں۔ تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس (مرض) میں غسل نہیں ہے (ہاں) وضو فرض ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 132]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة