بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
كِتَاب الْعِلْمِ
کتاب: علم کے بیان میں
Sahih al-Bukhari
Home کتب صحیح بخاری کتاب: علم کے بیان میں
# باب احادیث دیکھیں
1
باب: علم کی فضیلت کے بیان میں۔
بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ:
Q×1
2
باب: اس بیان میں کہ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اپنی کسی دوسری بات میں مشغول ہو پس (ادب کا تقاضا ہے کہ) وہ پہلے اپنی بات پوری کر لے پھر پوچھنے والے کو جواب دے۔
بَابُ مَنْ سُئِلَ عِلْمًا وَهُوَ مُشْتَغِلٌ فِي حَدِيثِهِ فَأَتَمَّ الْحَدِيثَ ثُمَّ أَجَابَ السَّائِلَ:
59
3
باب: اس کے بارے میں جس نے علمی مسائل کے لیے اپنی آواز کو بلند کیا۔
بَابُ مَنْ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْعِلْمِ:
60
4
باب: محدث کا لفظ «حدثنا أو، أخبرنا وأنبأنا» استعمال کرنا صحیح ہے۔
بَابُ قَوْلِ الْمُحَدِّثِ حَدَّثَنَا أَوْ أَخْبَرَنَا وَأَنْبَأَنَا:
Q61 – 61
5
باب: استاد اپنے شاگردوں کا علم آزمانے کے لیے ان سے کوئی سوال کرے (یعنی امتحان لینے کا بیان)۔
بَابُ طَرْحِ الإِمَامِ الْمَسْأَلَةَ عَلَى أَصْحَابِهِ لِيَخْتَبِرَ مَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ:
62
6
باب: شاگرد کا استاد کے سامنے پڑھنا اور اس کو سنانا۔
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعِلْمِ:
Q63 – 2
7
باب: مناولہ کا بیان اور اہل علم کا علمی باتیں لکھ کر (دوسرے) شہروں کو بھیجنا۔
بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الْمُنَاوَلَةِ وَكِتَابِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْعِلْمِ إِلَى الْبُلْدَانِ:
Q64 – 65
8
باب: وہ شخص جو مجلس کے آخر میں بیٹھ جائے اور وہ شخص جو درمیان میں جہاں جگہ دیکھے بیٹھ جائے (بشرطیکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو)۔
بَابُ مَنْ قَعَدَ حَيْثُ يَنْتَهِي بِهِ الْمَجْلِسُ، وَمَنْ رَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا:
66
9
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تفصیل میں کہ بسا اوقات وہ شخص جسے (حدیث) پہنچائی جائے سننے والے سے زیادہ (حدیث کو) یاد رکھ لیتا ہے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»:
67
10
باب: اس بیان میں کہ علم (کا درجہ) قول و عمل سے پہلے ہے۔
بَابُ الْعِلْمُ قَبْلَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ:
Q×1
11
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کی رعایت کرتے ہوئے نصیحت فرمانے اور تعلیم دینے کے بیان میں تاکہ انہیں ناگوار نہ ہو۔
بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُهُمْ بِالْمَوْعِظَةِ وَالْعِلْمِ كَيْ لاَ يَنْفِرُوا:
68 – 69
12
باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص اہل علم کے لیے کچھ دن مقرر کر دے (تو یہ جائز ہے) یعنی استاد اپنے شاگردوں کے لیے اوقات مقرر کر سکتا ہے۔
بَابُ مَنْ جَعَلَ لأَهْلِ الْعِلْمِ أَيَّامًا مَعْلُومَةً:
70
13
باب: اس بارے میں کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ عنایت فرما دیتا ہے۔
بَابُ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ:
71
14
باب: علم میں سمجھداری سے کام لینے کے بیان میں۔
بَابُ الْفَهْمِ فِي الْعِلْمِ:
72
15
باب: علم و حکمت میں رشک کرنے کے بیان میں۔
بَابُ الاِغْتِبَاطِ فِي الْعِلْمِ وَالْحِكْمَةِ:
Q73 – 73
16
باب: موسیٰ علیہ السلام کے خضر علیہ السلام کے پاس دریا میں جانے کے ذکر میں۔
بَابُ مَا ذُكِرَ فِي ذَهَابِ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَحْرِ إِلَى الْخَضِرِ:
Q74 – 74
17
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ ”اللہ اسے قرآن کا علم عطا فرمائیو!“۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ»:
75
18
باب: اس بارے میں کہ بچے کا (حدیث) سننا کس عمر میں صحیح ہے؟
بَابُ مَتَى يَصِحُّ سَمَاعُ الصَّغِيرِ:
76 – 77
19
باب: علم کی تلاش میں نکلنے کے بارے میں۔
بَابُ الْخُرُوجِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ:
Q78 – 78
20
باب: پڑھنے اور پڑھانے والے کی فضیلت کے بیان میں۔
بَابُ فَضْلِ مَنْ عَلِمَ وَعَلَّمَ:
79
21
باب: علم کے زوال اور جہل کی اشاعت کے بیان میں۔
بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ:
Q80 – 81
22
باب: علم کی فضیلت کے بیان میں۔
بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ:
82
23
باب: جانور وغیرہ پر سوار ہو کر فتویٰ دینا جائز ہے۔
بَابُ الْفُتْيَا وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الدَّابَّةِ وَغَيْرِهَا:
83
24
باب: اس شخص کے بارے میں جو ہاتھ یا سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دے۔
بَابُ مَنْ أَجَابَ الْفُتْيَا بِإِشَارَةِ الْيَدِ وَالرَّأْسِ:
84 – 86
25
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ عبدالقیس کے وفد کو اس پر آمادہ کرنا کہ وہ ایمان لائیں اور علم کی باتیں یاد رکھیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی خبر کر دیں۔
بَابُ تَحْرِيضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى أَنْ يَحْفَظُوا الإِيمَانَ وَالْعِلْمَ وَيُخْبِرُوا مَنْ وَرَاءَهُمْ:
Q87 – 87
26
باب: جب کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے لیے سفر کرنا (کیسا ہے؟)۔
بَابُ الرِّحْلَةِ فِي الْمَسْأَلَةِ النَّازِلَةِ وَتَعْلِيمِ أَهْلِهِ:
88
27
باب: اس بارے میں کہ (طلباء کا حصول) علم کے لیے (استاد کی خدمت میں) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے۔
بَابُ التَّنَاوُبِ فِي الْعِلْمِ:
89
28
باب: استاد شاگردوں کی جب کوئی ناگوار بات دیکھے تو وعظ کرتے اور تعلیم دیتے وقت ان پر خفا ہو سکتا ہے۔
بَابُ الْغَضَبِ فِي الْمَوْعِظَةِ وَالتَّعْلِيمِ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ:
90 – 92
29
باب: اس شخص کے بارے میں جو امام یا محدث کے سامنے دو زانو (ہو کر ادب کے ساتھ) بیٹھے۔
بَابُ مَنْ بَرَكَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ عِنْدَ الإِمَامِ أَوِ الْمُحَدِّثِ:
93
30
باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لیے (ایک) بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے۔
بَابُ مَنْ أَعَادَ الْحَدِيثَ ثَلاَثًا لِيُفْهَمَ عَنْهُ:
Q94 – 96
31
باب: اس بارے میں کہ مرد کا اپنی باندی اور گھر والوں کو تعلیم دینا (ضروری ہے)۔
بَابُ تَعْلِيمِ الرَّجُلِ أَمَتَهُ وَأَهْلَهُ:
97
32
باب: اس بارے میں کہ امام کا عورتوں کو بھی نصیحت کرنا اور تعلیم دینا (ضروری ہے)۔
بَابُ عِظَةِ الإِمَامِ النِّسَاءَ وَتَعْلِيمِهِنَّ:
98
33
باب: علم حدیث حاصل کرنے کی حرص کے بارے میں۔
بَابُ الْحِرْصِ عَلَى الْحَدِيثِ:
99
34
باب: اس بیان میں کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائے گا؟
بَابُ كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ:
Q100 – 100
35
باب: اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لیے کوئی خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے؟
بَابُ هَلْ يُجْعَلُ لِلنِّسَاءِ يَوْمٌ عَلَى حِدَةٍ فِي الْعِلْمِ:
101 – 102
36
باب: اس بارے میں کہ ایک شخص کوئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے (اچھی طرح) سمجھ لے، یہ جائز ہے۔
بَابُ مَنْ سَمِعَ شَيْئًا فَرَاجَعَ حَتَّى يَعْرِفَهُ:
103
37
باب: اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں۔
بَابُ لِيُبَلِّغِ الْعِلْمَ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ:
Q104 – 105
38
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے۔
بَابُ إِثْمِ مَنْ كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
106 – 110
39
باب: (دینی) علم کو قلم بند کرنے کے جواز میں۔
بَابُ كِتَابَةِ الْعِلْمِ:
111 – 114
40
باب: اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے۔
بَابُ الْعِلْمِ وَالْعِظَةِ بِاللَّيْلِ:
115
41
باب: اس بارے میں کہ سونے سے پہلے رات کے وقت علمی باتیں کرنا جائز ہے۔
بَابُ السَّمَرِ بِالْعِلْمِ:
116 – 117
42
باب: علم کو محفوظ رکھنے کے بیان میں۔
بَابُ حِفْظِ الْعِلْمِ:
118 – 120
43
باب: اس بارے میں کہ عالموں کی بات خاموشی سے سننا ضروری ہے۔
بَابُ الإِنْصَاتِ لِلْعُلَمَاءِ:
121
44
باب: اس بیان میں کہ جب کسی عالم سے یہ پوچھا جائے کہ لوگوں میں کون سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ تو بہتر یہ ہے کہ اللہ کے حوالے کر دے یعنی یہ کہہ دے کہ اللہ سب سے زیادہ علم رکھتا ہے یا یہ کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ کون سب سے بڑا عالم ہے۔
بَابُ مَا يُسْتَحَبُّ لِلْعَالِمِ إِذَا سُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ فَيَكِلُ الْعِلْمَ إِلَى اللَّهِ:
122
45
باب: کھڑے ہو کر کسی عالم سے سوال کرنا جو بیٹھا ہوا ہو (جائز ہے)۔
بَابُ مَنْ سَأَلَ وَهْوَ قَائِمٌ عَالِمًا جَالِسًا:
123
46
باب: رمی جمار (یعنی حج میں پتھر پھینکنے) کے وقت بھی مسئلہ پوچھنا جائز ہے۔
بَابُ السُّؤَالِ وَالْفُتْيَا عِنْدَ رَمْيِ الْجِمَارِ:
124
47
باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تشریح میں کہ تمہیں تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلاَّ قَلِيلاً} :
125
48
باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص بعض باتوں کو اس خوف سے چھوڑ دے کہ کہیں لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے اس سے زیادہ سخت (یعنی ناجائز) باتوں میں مبتلا نہ ہو جائیں۔
بَابُ مَنْ تَرَكَ بَعْضَ الاِخْتِيَارِ مَخَافَةَ أَنْ يَقْصُرَ فَهْمُ بَعْضِ النَّاسِ عَنْهُ فَيَقَعُوا فِي أَشَدَّ مِنْهُ:
126
49
باب: اس بارے میں کہ علم کی باتیں کچھ لوگوں کو بتانا اور کچھ لوگوں کو نہ بتانا اس خیال سے کہ ان کی سمجھ میں نہ آئیں گی (یہ عین مناسب ہے)۔
بَابُ مَنْ خَصَّ بِالْعِلْمِ قَوْمًا دُونَ قَوْمٍ كَرَاهِيَةَ أَنْ لاَ يَفْهَمُوا:
Q127 – 129
50
باب: اس بیان میں کہ حصول علم میں شرمانا مناسب نہیں ہے!۔
بَابُ الْحَيَاءِ فِي الْعِلْمِ:
Q130 – 131
51
باب: اس بیان میں کہ مسائل شرعیہ معلوم کرنے میں جو شخص (کسی معقول وجہ سے) شرمائے وہ کسی دوسرے آدمی کے ذریعے سے مسئلہ معلوم کر لے۔
بَابُ مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ:
132
52
باب: مسجد میں علمی مذاکرہ کرنا اور فتوی دینا جائز ہے۔
بَابُ ذِكْرِ الْعِلْمِ وَالْفُتْيَا فِي الْمَسْجِدِ:
133
53
باب: سائل کو اس کے سوال سے زیادہ جواب دینا، (تاکہ اسے تفصیلی معلومات ہو جائیں)۔
بَابُ مَنْ أَجَابَ السَّائِلَ بِأَكْثَرَ مِمَّا سَأَلَهُ:
134