عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مَرْثَدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيَّ ، عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ مَرْثَدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيَّ , قَالَ:" أَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ , فَقُلْتُ: أَلَا أُعْجِبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ!، فَقَالَ عُقْبَةُ: إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: فَمَا يَمْنَعُكَ الْآنَ , قَالَ: الشُّغْلُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مرثد بن عبداللہ یزنی سے سنا کہ میں عقبہ بن عامر جہنی صحابی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کو ابوتمیم عبداللہ بن مالک پر تعجب نہیں آیا کہ وہ مغرب کی نماز فرض سے پہلے دو رکعت نفل پڑھتے ہیں۔ اس پر عقبہ نے فرمایا کہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں اسے پڑھتے تھے۔ میں نے کہا پھر اب اس کے چھوڑنے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دنیا کے کاروبار مانع ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة