أَبُو مَعْمَرٍ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، الْحُسَيْنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین معلم نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مغرب کے فرض سے پہلے (سنت کی دو رکعتیں) پڑھا کرو۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پسند نہ تھی کہ لوگ اسے لازمی سمجھ بیٹھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّهَجُّد/حدیث: 1183]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة