بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 95 — باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لیے (ایک) بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: علم کے بیان میں باب: اس بارے میں کہ کوئی شخص سمجھانے کے لیے (ایک) بات کو تین مرتبہ دہرائے تو یہ ٹھیک ہے۔ حدیث 95

Q94 حوالہ جات (References)

فَقَالَ: «أَلاَ وَقَوْلُ الزُّورِ» . فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا. وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ بَلَّغْتُ» . ثَلاَثًا.
‏‏‏‏ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے «ألا وقول الزور» اس کو تین بار دہراتے رہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تم کو پہنچا دیا (یہ جملہ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ دہرایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: Q94]
عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَارُ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَارُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتَّى تُفْهَمَ عَنْهُ، وَإِذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے عبدالصمد نے، ان سے عبداللہ بن مثنی نے، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی کلمہ ارشاد فرماتے تو اسے تین بار لوٹاتے یہاں تک کہ خوب سمجھ لیا جاتا۔ اور جب کچھ لوگوں کے پاس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لاتے اور انہیں سلام کرتے تو تین بار سلام کرتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/حدیث: 95]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (94) باب پر واپس اگلی حدیث (96) →