عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، حُمَيْدٌ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَال:" وَاصَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الشَّهْرِ، وَوَاصَلَ أُنَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَوْ مُدَّ بِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ"، تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ مُغِيرَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید طویل نے، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رمضان کے آخری دنوں میں صوم وصال رکھا تو بعض صحابہ نے بھی صوم وصال رکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر اس مہینے کے دن اور بڑھ جاتے تو میں اتنے دن متواتر وصال کرتا کہ ہوس کرنے والے اپنی ہوس چھوڑ دیتے، میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں۔ میں اس طرح دن گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے۔ اس روایت کی متابعت سلیمان بن مغیرہ نے کی، ان سے ثابت نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا فرمایا جو اوپر مذکور ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّمَنِّي/حدیث: 7241]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة