إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْعُصْبَةَ مَوْضِعٌ بِقُبَاءٍ قَبْلَ مَقْدَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ جب پہلے مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت سے بھی پہلے قباء کے مقام عصبہ میں پہنچے تو ان کی امامت ابوحذیفہ کے غلام سالم رضی اللہ عنہ کیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید سب سے زیادہ یاد تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 692]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة