بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6886 — باب: مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: دیتوں کے بیان میں باب: مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا۔ حدیث 6886

Q6886 حوالہ جات (References)

وَقَالَ أَهْلُ الْعِلْمِ: يُقْتَلُ الرَّجُلُ بِالْمَرْأَةِ، وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ: تُقَادُ الْمَرْأَةُ مِنَ الرَّجُلِ فِي كُلِّ عَمْدٍ يَبْلُغُ نَفْسَهُ فَمَا دُونَهَا مِنَ الْجِرَاحِ، وَبِهِ قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَإِبْرَاهِيمُ وَأَبُو الزِّنَادِ، عَنْ أَصْحَابِهِ، وَجَرَحَتْ أُخْتُ الرُّبَيِّعِ إِنْسَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْقِصَاصُ.
اہل علم نے کہا ہے کہ مرد کو عورت کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عورت سے مرد کے قتل مثل عمد یا اس سے کم دوسرے زخموں کا قصاص لیا جائے۔ یہی قول عمر بن عبدالعزیز، ابراہیم، ابوالزناد کا اپنے اساتذہ سے منقول ہے۔ اور ربیع کی بہن نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص کو زخمی کر دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرمایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: Q6886]
حدیث نمبر: 6886 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ، يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَدَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ: لَا تُلِدُّونِي، فَقُلْنَا: كَرَاهِيَةُ الْمَرِيضِ لِلدَّوَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلَّا لُدَّ غَيْرَ الْعَبَّاسِ فَإِنَّهُ لَمْ يَشْهَدْكُمْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عمر بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ میں (مرض الوفات کے موقع پر) آپ کی مرضی کے خلاف ہم نے دوا ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے حلق میں دوا نہ ڈالو لیکن ہم نے سمجھا کہ مریض ہونے کی وجہ سے دوا پینے سے نفرت کر رہے ہیں لیکن جب آپ کو ہوش ہوا تو فرمایا کہ تم جتنے لوگ گھر میں ہو سب کے حلق میں زبردستی دوا ڈالی جائے سوا عباس رضی اللہ عنہ کے کہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 6886]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6885) باب پر واپس اگلی حدیث (6887) →