| # | باب | احادیث | دیکھیں |
|---|---|---|---|
| 1 |
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے اس کی سزا جہنم ہے“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} :
|
6861 – 6866 | احادیث |
| 2 |
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا ”جس نے مرتے کو بچا لیا اس نے گویا سب لوگوں کی جان بچا لی“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَنْ أَحْيَاهَا} :
|
Q6867 – 6875 | احادیث |
| 3 |
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) فرمایا ”اے ایمان والو! تم میں جو لوگ قتل کئے جائیں ان کا قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلہ میں آزاد اور غلام کے بدلہ میں غلام اور عورت کے بدلہ میں عورت، ہاں جس کسی کو اس کے فریق کے مقابل کی طرف سے قصاص کا کوئی حصہ معاف کر دیا جائے سو مطالبہ معقول اور نرم طریق پر کرنا چاہئے اور دیت کو اس فریق کے پاس خوبی سے پہنچا دینا چاہئے، یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے سو جو کوئی اس کے بعد بھی زیادتی کرے اس کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہے“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنْثَى بِالأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} :
|
Q×1 | احادیث |
| 4 |
باب: حاکم کا قاتل سے پوچھ گچھ کرنا یہاں تک کہ وہ اقرار کر لے اور حدود میں اقرار (اثباب جرم کیلئے) کافی ہے۔
بَابُ سُؤَالِ الْقَاتِلِ حَتَّى يُقِرَّ وَالإِقْرَارِ فِي الْحُدُودِ:
|
6876 | احادیث |
| 5 |
باب: جب کسی نے پتھر یا ڈنڈے سے کسی کو قتل کیا۔
بَابُ إِذَا قَتَلَ بِحَجَرٍ أَوْ بِعَصًا:
|
6877 | احادیث |
| 6 |
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ المائدہ میں) فرمایا کہ ”جان کا بدلہ جان ہے اور آنکھ کا بدلہ آنکھ اور ناک کا بدلہ ناک اور کان کا بدلہ کان اور دانت کا بدلہ دانت اور زخموں میں قصاص ہے، سو کوئی اسے معاف کر دے تو وہ اس کی طرف سے کفارہ ہو جائے گا اور جو کوئی اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے موافق فیصلہ نہ کرے تو وہ ظالم ہیں“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالأَنْفَ بِالأَنْفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ} :
|
6878 | احادیث |
| 7 |
باب: پتھروں سے قصاص لینے کا بیان۔
بَابُ مَنْ أَقَادَ بِالْحَجَرِ:
|
6879 | احادیث |
| 8 |
باب: جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے۔
بَابُ مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهْوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ:
|
6880 – 6881 | احادیث |
| 9 |
باب: جو کوئی ناحق کسی کا خون کرنے کی فکر میں ہو اس کا گناہ۔
بَابُ مَنْ طَلَبَ دَمَ امْرِئٍ بِغَيْرِ حَقٍّ:
|
6882 | احادیث |
| 10 |
باب: قتل خطا میں مقتول کی موت کے بعد اس کے وارث کا معاف کرنا۔
بَابُ الْعَفْوِ فِي الْخَطَإِ بَعْدَ الْمَوْتِ:
|
6883 | احادیث |
| 11 |
باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ نساء میں) فرمایا ”اور یہ کسی مومن کیلئے مناسب نہیں کہ وہ کسی مومن کو ناحق قتل کر دے، بجز اس کے کہ غلطی سے ایسا ہو جائے اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کر ڈالے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا اس پر واجب ہے اور دیت بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کی جائے سوا اس کے کہ وہ لوگ خود ہی اسے معاف کر دیں تو اگر وہ ایسی قوم میں ہو جو تمہاری دشمن ہے درآں حالیکہ وہ بذات خود مومن ہے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا واجب ہے اور اگر ایسی قوم میں سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے تو دیت واجب ہے جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کی جائے اور ایک مسلم غلام کا آزاد کرنا بھی، پھر جس کو یہ نہ میسر ہو اس پر دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنا واجب ہے، یہ توبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے، بڑا ہی حکمت والا ہے“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلاَّ خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلاَّ أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا} :
|
Q×1 | احادیث |
| 12 |
باب: جب قاتل ایک مرتبہ قتل کا اقرار کر لے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔
بَابُ إِذَا أَقَرَّ بِالْقَتْلِ مَرَّةً قُتِلَ بِهِ:
|
6884 | احادیث |
| 13 |
باب: عورت کے بدلہ میں مرد کا قتل کرنا جو عورت کا قاتل ہو۔
بَابُ قَتْلِ الرَّجُلِ بِالْمَرْأَةِ:
|
6885 | احادیث |
| 14 |
باب: مردوں اور عورتوں کے درمیان زخموں میں بھی قصاص لیا جائے گا۔
بَابُ الْقِصَاصِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فِي الْجِرَاحَاتِ:
|
Q6886 – 6886 | احادیث |
| 15 |
باب: جس نے اپنا حق یا قصاص سلطان کی اجازت کے بغیر لے لیا۔
بَابُ مَنْ أَخَذَ حَقَّهُ أَوِ اقْتَصَّ دُونَ السُّلْطَانِ:
|
6887 – 6889 | احادیث |
| 16 |
باب: جب کوئی ہجوم میں مر جائے یا مارا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
بَابُ إِذَا مَاتَ فِي الزِّحَامِ أَوْ قُتِلَ:
|
6890 | احادیث |
| 17 |
باب: اگر کسی نے غلطی سے اپنے آپ ہی کو مار ڈالا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
بَابُ إِذَا قَتَلَ نَفْسَهُ خَطَأً فَلاَ دِيَةَ لَهُ:
|
6891 | احادیث |
| 18 |
باب: جب کسی نے کسی کو دانت سے کاٹا اور کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا تو اس کی کوئی دیت نہیں ہے۔
بَابُ إِذَا عَضَّ رَجُلاً فَوَقَعَتْ ثَنَايَاهُ:
|
6892 – 6893 | احادیث |
| 19 |
باب: دانت کے بدلے دانت۔
بَابُ السِّنِّ بِالسِّنِّ:
|
6894 | احادیث |
| 20 |
باب: انگلیوں کی دیت کا بیان۔
بَابُ دِيَةِ الأَصَابِعِ:
|
6895 | احادیث |
| 21 |
باب: اگر کئی آدمی ایک شخص کو قتل کر دیں تو کیا قصاص میں سب کو قتل کیا جائے گا یا قصاص لیا جائے گا؟
بَابُ إِذَا أَصَابَ قَوْمٌ مِنْ رَجُلٍ هَلْ يُعَاقِبُ أَوْ يَقْتَصُّ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ:
|
Q6896 – 6897 | احادیث |
| 22 |
باب: قسامت کا بیان۔
بَابُ الْقَسَامَةِ:
|
Q6898 – 6899 | احادیث |
| 23 |
باب: جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی۔
بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ:
|
6900 – 6902 | احادیث |
| 24 |
باب: عاقلہ کا بیان۔
بَابُ الْعَاقِلَةِ:
|
6903 | احادیث |
| 25 |
باب: عورت کے پیٹ کا بچہ جو ابھی پیدا نہ ہوا ہو۔
بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ:
|
6904 – 6908 | احادیث |
| 26 |
باب: پیٹ کے بچے کا بیان اور اگر کوئی عورت خون کرے تو اس کی دیت ددھیال والوں پر ہو گی نہ کہ اس کی اولاد پر۔
بَابُ جَنِينِ الْمَرْأَةِ وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَى الْوَالِدِ وَعَصَبَةِ الْوَالِدِ لاَ عَلَى الْوَلَدِ:
|
6909 – 6910 | احادیث |
| 27 |
باب: جس نے کسی غلام یا بچہ کو کام کیلئے عاریتاً مانگ لیا۔
بَابُ مَنِ اسْتَعَانَ عَبْدًا أَوْ صَبِيًّا:
|
Q6911 – 6911 | احادیث |
| 28 |
باب: کان میں دب کر اور کنویں میں گر کر مرنے والے کی دیت نہیں ہے۔
بَابُ الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ:
|
6912 | احادیث |
| 29 |
باب: چوپایوں کے نقصان کرنے کا کچھ تاوان نہیں۔
بَابُ الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ:
|
Q6913 – 6913 | احادیث |
| 30 |
باب: جو بےگناہ ذمی کافر کو مار ڈالے اس کے گناہ کا بیان۔
بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ ذِمِّيًّا بِغَيْرِ جُرْمٍ:
|
6914 | احادیث |
| 31 |
باب: مسلمان کو (ذمی) کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔
بَابُ لاَ يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْكَافِرِ:
|
6915 | احادیث |
| 32 |
باب: جب مسلمان غصہ میں یہودی کو تھپڑ مار ڈالے۔
بَابُ إِذَا لَطَمَ الْمُسْلِمُ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْغَضَبِ:
|
Q6916 – 6917 | احادیث |