بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6758 — باب: جب کوئی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے (تو وہ اس کا وارث ہوتا ہے یا نہیں)۔
کتب صحیح بخاری کتاب: فرائض یعنی ترکہ کے حصوں کے بیان میں باب: جب کوئی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے (تو وہ اس کا وارث ہوتا ہے یا نہیں)۔ حدیث 6758

Q6757 حوالہ جات (References)

وَكَانَ الْحَسَنُ لَا يَرَى لَهُ وِلَايَةً، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ وَيُذْكَرُ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَفَعَهُ قَالَ هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ وَاخْتَلَفُوا فِي صِحَّةِ هَذَا الْخَبَرِ
‏‏‏‏ اور امام حسن بصری اس کے ساتھ ولاء کے تعلق کو درست نہیں سمجھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہو گی جو آزاد کرے اور تمیم بن اوس داری سے منقول ہے، انہوں نے مرفوعاً روایت کی کہ وہ زندگی اور موت دونوں حالتوں میں سب لوگوں سے زیادہ اس پر حق رکھتا ہے لیکن اس حدیث کی صحت میں اختلاف ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: Q6757]
حدیث نمبر: 6758 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدٌ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اشْتَرَيْتُ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ، قَالَتْ: فَأَعْتَقْتُهَا، قَالَتْ: فَدَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَيَّرَهَا مِنْ زَوْجِهَا، فَقَالَتْ: لَوْ أَعْطَانِي كَذَا وَكَذَا مَا بِتُّ عِنْدَهُ، فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، قَالَ: وَكَانَ زَوْجُهَا حُرًّا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہو گی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْفَرَائِضِ/حدیث: 6758]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6757) باب پر واپس اگلی حدیث (6759) →