| # | باب | احادیث | دیکھیں |
|---|---|---|---|
| 1 |
باب: اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”اللہ پاک تمہاری اولاد کے مقدمہ میں تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ مرد بچے کو دوہرا حصہ اور بیٹی کو اکہرا حصہ ملے گا، اگر میت کا بیٹا نہ ہو، نری بیٹیاں ہوں دو یا دو سے زائد تو ان کو دو تہائی ترکہ ملے گا۔ اگر میت کی ایک بیٹی ہو تو اس کو آدھا ترکہ ملے گا اور میت کے ماں باپ ہر ایک کو ترکہ میں سے چھٹا چھٹا حصہ ملے گا اگر میت کی اولاد ہو (بیٹا یا بیٹی، پوتا یا پوتی) اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تہائی حصہ (باقی سب باپ کو ملے گا) اگر ماں باپ کے سوا میت کے کچھ بھائی بہن ہوں تب ماں کو چھٹا حصہ ملے گا یہ سارے حصے میت کی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد ادا کئے جائیں گے (مگر وصیت میت کے تہائی مال تک جہاں تک پوری ہو سکے پوری کریں گے۔ باقی دو تہائی وارثوں کا حق ہے اور قرض کی ادائیگی سارے مال سے کی جائے گی اگر کل مال قرض میں چلا جائے تو وارثوں کو کچھ نہ ملے گا) تم کیا جانو باپ یا بیٹوں میں سے تم کو کس سے زیادہ فائدہ پہنچ سکتا ہے (اس لیے اپنی رائے کو دخل نہ دو) یہ حصے اللہ کے مقرر کئے ہوئے ہیں (وہ اپنی مصلحت کو خوب جانتا ہے) کیونکہ اللہ بڑے علم اور حکمت والا ہے اور تمہاری بیویاں جو مال اسباب چھوڑ جائیں اگر اس کی اولاد نہ ہو (نہ بیٹا نہ بیٹی) تب تو تم کو آدھا ترکہ ملے گا۔ اگر اولاد ہو تو چوتھائی یہ بھی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد ملے گا اسی طرح تم جو مال و اسباب چھوڑ جاؤ اور تمہاری اولاد بیٹا بیٹی کوئی نہ ہو تو تمہاری بیویوں کو اس میں سے چوتھائی ملے گا اگر اولاد ہو تو آٹھواں حصہ یہ بھی وصیت اور قرضہ ادا کرنے کے بعد اور اگر کوئی مرد یا عورت مر جائے اور وہ کلالہ ہو (نہ اس کا باپ ہو نہ بیٹا) بلکہ ماں جائے ایک بھائی یا بہن ہو (یعنی اخیافی) تو ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ اگر اسی طرح کئی اخیائی بھائی بہن ہوں تو سب مل کر ایک تہائی پائیں گے۔ یہ بھی وصیت اور قرض ادا کرنے کے بعد بشرطیکہ میت نے وارثوں کو نقصان پہنچانے کے لیے وصیت نہ کی ہو“ (یعنی ثلث مال سے زیادہ کی) یہ سارا فرمان اللہ پاک کا اور اللہ ہر ایک کا حال خوب جانتا ہے وہ بڑے تحمل والا ہے (جلدی عذاب نہیں کرتا)“۔
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلأُمِّهِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لاَ تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلاَلَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ} :
|
6723 | احادیث |
| 2 |
باب: فرائض کا علم سیکھنا۔
بَابُ تَعْلِيمِ الْفَرَائِضِ:
|
Q6724 – 6724 | احادیث |
| 3 |
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ جو کچھ ہم چھوڑیں وہ سب صدقہ ہے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ»:
|
6725 – 6730 | احادیث |
| 4 |
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ جس نے مال چھوڑا ہو وہ اس کے اہل خانہ کے لیے ہے۔
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَرَكَ مَالاً فَلأَهْلِهِ»:
|
6731 | احادیث |
| 5 |
باب: لڑکے کی (مقررہ) میراث اس کے باپ اور ماں کی طرف سے کیا ہو گی۔
بَابُ مِيرَاثِ الْوَلَدِ مِنْ أَبِيهِ وَأُمِّهِ:
|
Q6732 – 6732 | احادیث |
| 6 |
باب: لڑکیوں کی میراث کا بیان۔
بَابُ مِيرَاثِ الْبَنَاتِ:
|
6733 – 6734 | احادیث |
| 7 |
باب: پوتے کی میراث (کتنی ہے) جب بیٹا نہ ہو۔
بَابُ مِيرَاثِ ابْنِ الاِبْنِ، إِذَا لَمْ يَكُنِ ابْنٌ:
|
Q6735 – 6735 | احادیث |
| 8 |
باب: بیٹی کی موجودگی میں پوتی کی میراث۔
بَابُ مِيرَاثِ ابْنَةِ ابْنٍ مَعَ ابْنَةٍ:
|
6736 | احادیث |
| 9 |
باب: باپ یا بھائیوں کی موجودگی میں دادا کی میراث کا بیان۔
بَابُ مِيرَاثِ الْجَدِّ مَعَ الأَبِ وَالإِخْوَةِ:
|
Q6737 – 6738 | احادیث |
| 10 |
باب: اولاد کے ساتھ خاوند کو کیا ملے گا۔
بَابُ مِيرَاثِ الزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ:
|
6739 | احادیث |
| 11 |
باب: بیوی اور خاوند کو اولاد وغیرہ کے ساتھ کیا ملے گا۔
بَابُ مِيرَاثِ الْمَرْأَةِ وَالزَّوْجِ مَعَ الْوَلَدِ وَغَيْرِهِ:
|
6740 | احادیث |
| 12 |
باب: بیٹیوں کی موجودگی میں بہنیں عصبہ ہو جاتی ہیں۔
بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةً:
|
6741 – 6742 | احادیث |
| 13 |
باب: بہنوں اور بھائیوں کی میراث کا بیان۔
بَابُ مِيرَاثِ الأَخَوَاتِ وَالإِخْوَةِ:
|
6743 | احادیث |
| 14 |
باب: سورۃ نساء میں اللہ کا یہ فرمان کہ لوگ وراثت کے بارے میں آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے متعلق یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی بہنیں ہوں تو بہن کو ترکہ کا آدھا ملے گا۔ اسی طرح یہ شخص اپنی بہن کا وارث ہو گا اگر اس کا کوئی بیٹا نہ ہو۔ پھر اگر بہنیں دو ہوں تو وہ دو تہائی ترکہ سے پائیں گی اور اگر بھائی بہن سب ملے جلے ہوں تو مرد کو دہرا حصہ اور عورت کو اکہرا حصہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بیان کرتا ہے کہ کہیں تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے“۔
بَابُ: {يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ} :
|
6744 | احادیث |
| 15 |
باب: اگر کوئی عورت مر جائے اور اپنے دو چچا زاد بھائی چھوڑ جائے ایک تو ان میں سے اس کا اخیائی بھائی ہو، دوسرا اس کا خاوند ہو۔
بَابُ ابْنَيْ عَمٍّ أَحَدُهُمَا أَخٌ لِلأُمِّ وَالآخَرُ زَوْجٌ:
|
Q6745 – 6746 | احادیث |
| 16 |
باب: ذوی الارحام (جیسے ماموں، خالہ، نانا، نواسہ، بھانجا)۔
بَابُ ذَوِي الأَرْحَامِ:
|
6747 | احادیث |
| 17 |
باب: لعان کرنے والی عورت کی وراثت کا بیان۔
بَابُ مِيرَاثِ الْمُلاَعَنَةِ:
|
6748 | احادیث |
| 18 |
باب: بچہ خواہ آزاد ہو یا غلام اسی کا کہلائے گا جس کا بستر ہو۔
بَابُ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً:
|
6749 – 6750 | احادیث |
| 19 |
باب: غلام لونڈی کا ترکہ وہی لے گا جو اسے آزاد کرے اور جو لڑکا راستہ میں پڑا ہوا ملے اس کی وراثت کا بیان۔
بَابُ الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَمِيرَاثُ اللَّقِيطِ:
|
Q6751 – 6752 | احادیث |
| 20 |
باب: سائبہ وہ غلام یا لونڈی جس کو مالک آزاد کر دے اور کہہ دے کہ تیری ولاء کا حق کسی کو نہ ملے گا کی وراثت کا بیان۔
بَابُ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ:
|
6753 – 6754 | احادیث |
| 21 |
باب: جو غلام اپنے اصلی مالکوں کو چھوڑ جائے اس کا گناہ۔
بَابُ إِثْمِ مَنْ تَبَرَّأَ مِنْ مَوَالِيهِ:
|
6755 – 6756 | احادیث |
| 22 |
باب: جب کوئی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام لائے (تو وہ اس کا وارث ہوتا ہے یا نہیں)۔
بَابُ إِذَا أَسْلَمَ عَلَى يَدَيْهِ:
|
Q6757 – 6758 | احادیث |
| 23 |
باب: ولاء کا تعلق عورت کے ساتھ قائم ہو سکتا ہے۔
بَابُ مَا يَرِثُ النِّسَاءُ مِنَ الْوَلاَءِ:
|
6759 – 6760 | احادیث |
| 24 |
باب: جو شخص کسی قوم کا غلام ہو آزاد کیا گیا وہ اسی قوم میں شمار ہو گا، اسی طرح کسی قوم کا بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہو گا۔
بَابُ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَابْنُ الأُخْتِ مِنْهُمْ:
|
6761 – 6762 | احادیث |
| 25 |
باب: قیدی کی وراثت کا بیان۔
بَابُ مِيرَاثِ الأَسِيرِ:
|
Q6763 – 6763 | احادیث |
| 26 |
باب: مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مسلمان کا اور اگر میراث کی تقسیم سے پہلے اسلام لایا تب بھی میراث میں اس کا حق نہیں ہو گا۔
بَابُ لاَ يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ وَلاَ الْكَافِرُ الْمُسْلِمَ، وَإِذَا أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ فَلاَ مِيرَاثَ لَهُ:
|
6764 | احادیث |
| 27 |
باب: عیسائی غلام یا مکاتب عیسائی کی وراثت کا بیان اور جو اپنے بیٹے کی نفی کر دے اس کے گناہ کا بیان۔
بَابُ مِيرَاثِ الْعَبْدِ النَّصْرَانِيِّ وَمُكَاتَبِ النَّصْرَانِيِّ، وَإِثْمِ مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ:
|
Q×1 | احادیث |
| 28 |
باب: جو کسی شخص کے بارے میں اپنا بھائی یا بھتیجا ہونے کا دعویٰ کرے۔
بَابُ مَنِ ادَّعَى أَخًا أَوِ ابْنَ أَخٍ:
|
6765 | احادیث |
| 29 |
باب: جس نے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا، اس کے گناہ کا بیان۔
بَابُ مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ:
|
6766 – 6768 | احادیث |
| 30 |
باب: کسی عورت کا دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ میرا ہے۔
بَابُ إِذَا ادَّعَتِ الْمَرْأَةُ ابْنًا:
|
6769 | احادیث |
| 31 |
باب: قیافہ شناش کا بیان۔
بَابُ الْقَائِفِ:
|
6770 – 6771 | احادیث |