آدَمُ ، شُعْبَةُ ، أَنَسُ بْنُ سِيرينَ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ سِيرينَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ الصَّلَاةَ مَعَكَ وَكَانَ رَجُلًا ضَخْمًا،" فَصَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَبَسَطَ لَهُ حَصِيرًا وَنَضَحَ طَرَفَ الْحَصِيرِ صَلَّى عَلَيْهِ رَكْعَتَيْنِ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسِ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى، قَالَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انصار میں سے ایک مرد نے عذر پیش کیا کہ میں آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو سکتا اور وہ موٹا آدمی تھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے گھر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ایک چٹائی بچھا دی اور اس کے ایک کنارہ کو (صاف کر کے) دھو دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بوریے پر دو رکعتیں پڑھیں۔ آل جارود کے ایک شخص (عبدالحمید) نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ اس دن کے سوا اور کبھی میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پڑھتے نہیں دیکھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 670]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة