عَلِيٌّ ، عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنِي عَلِيٌّ، سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ بْنَ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ أَبَا أُسَيْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَسَ، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُرْسِهِ، فَكَانَتِ الْعَرُوسُ خَادِمَهُمْ، فَقَالَ سَهْلٌ لِلْقَوْمِ: هَلْ تَدْرُونَ مَا سَقَتْهُ؟ قَالَ:" أَنْقَعَتْ لَهُ تَمْرًا فِي تَوْرٍ مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى أَصْبَحَ عَلَيْهِ، فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے عبدالعزیز بن ابی حازم سے سنا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ابواسید رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی شادی کے موقع پر بلایا۔ دلہن ہی ان کی میزبانی کا کام کر رہی تھیں، پھر سہل رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، تمہیں معلوم ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ کہا کہ رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے میں نے کھجور ایک بڑے پیالہ میں بھگو دی تھی اور صبح کے وقت اس کا پانی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پلایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6685]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة