بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6635 — باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: قسموں اور نذروں کے بیان میں باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کس طرح کھاتے تھے۔ حدیث 6635

Q6628 حوالہ جات (References)

وَقَالَ سَعْدٌ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ، عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَاهَا اللَّهِ إِذًا يُقَالُ: وَاللَّهِ، وَبِاللَّهِ وَتَاللَّهِ.
اور سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اور ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں کہا نہیں، واللہ! اس لیے واللہ، باللہ اور تاللہ کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: Q6628]
حدیث نمبر: 6635 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَهْبٌ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ أَسْلَمُ، وَغِفَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، خَيْرًا مِنْ، تَمِيمٍ، وَعَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، وَغَطَفَانَ، وَأَسَدٍ، خَابُوا وَخَسِرُوا"، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بھلا بتلاؤ اسلم، غفار، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم، عامر بن صعصعہ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد والے گھاٹے میں پڑے اور نقصان میں رہے یا نہیں۔ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں بیشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا) ان (تمیم وغیرہ) سے بہتر ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6635]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6634) باب پر واپس اگلی حدیث (6636) →