بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6548 — باب: جنت و جہنم کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں باب: جنت و جہنم کا بیان۔ حدیث 6548

Q6546 حوالہ جات (References)

وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: زِيَادَةُ كَبِدِ حُوتٍ عَدْنٌ خُلْدٌ عَدَنْتُ بِأَرْضٍ أَقَمْتُ وَمِنْهُ الْمَعْدِنُ فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ فِي مَنْبِتِ صِدْقٍ.
اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلے کھانا جسے اہل جنت کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی کی بڑھی ہوئی چربی ہو گی۔ «عدن» ‏‏‏‏ کے معنی ہمیشہ رہنا۔ عرب لوگ کہتے ہیں «عدنت بأرض» یعنی میں نے اس جگہ قیام کیا اور اسی سے «معدن» آتا ہے «في معدن صدق‏.‏» (یا «مقعد صدق‏.‏» جو سورۃ القمر میں ہے) یعنی سچائی پیدا ہونے کی جگہ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: Q6546]
حدیث نمبر: 6548 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، لَا مَوْتَ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ، لَا مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو عمر بن محمد بن زید نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب اہل جنت جنت میں چلے جائیں گے اور اہل دوزخ دوزخ میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اور اسے جنت اور دوزخ کے درمیان رکھ کر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ اے جنت والو! تمہیں اب موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو! تمہیں بھی اب موت نہیں آئے گی۔ اس بات سے جنتی اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور جہنمی اور زیادہ غمگین ہو جائیں گے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6548]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6547) باب پر واپس اگلی حدیث (6549) →