عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ"، قَالَتْ: قُلْتُ: أَلَيْسَ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8 قَالَ:" ذَلِكِ الْعَرْضُ"،
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو ضرور عذاب ہو گا۔“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”پھر عنقریب ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد صرف پیشی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6536]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة