مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْظَمُ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، وَالَّذِي يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْإِمَامِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الَّذِي يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ سے، انہوں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر وہ شخص ہوتا ہے، جو (مسجد میں نماز کے لیے) زیادہ سے زیادہ دور سے آئے اور جو شخص نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے اور پھر امام کے ساتھ پڑھتا ہے اس شخص سے اجر میں بڑھ کر ہے جو (پہلے ہی) پڑھ کر سو جائے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَذَانِ/حدیث: 651]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة