بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6443 — باب: جو لوگ دنیا میں زیادہ (مالدار) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں باب: جو لوگ دنیا میں زیادہ (مالدار) ہیں وہی آخرت میں کم ہوں گے۔ حدیث 6443

Q6443 حوالہ جات (References)

وَقَوْلُهُ تَعَالَى: مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ {15} أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ {16} سورة هود آية 15-16.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ ہود میں) فرمایا «‏‏‏‏من كان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف إليهم أعمالهم فيها وهم فيها لا يبخسون * أولئك الذين ليس لهم في الآخرة إلا النار وحبط ما صنعوا فيها وباطل ما كانوا يعملون‏» جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا طالب ہے تو ہم اس کے تمام اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں اس کو بھر پور دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے لیے کسی طرح کی کمی نہیں کی جاتی یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا اور کچھ نہیں ہے اور جو کچھ انہوں نے اس دنیا کی زندگی میں کیا وہ (آخرت کے حق میں) بیکار ثابت ہوا اور جو کچھ (اپنے خیال میں) وہ کرتے ہیں سب بیکار محض ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: Q6443]
حدیث نمبر: 6443 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَرِيرٌ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ ، النَّضْرُ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، وَالْأَعْمَشُ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْتُ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَحْدَهُ وَلَيْسَ مَعَهُ إِنْسَانٌ، قَالَ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَكْرَهُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَهُ أَحَدٌ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَمْشِي فِي ظِلِّ الْقَمَرِ فَالْتَفَتَ فَرَآنِي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا، قُلْتُ: أَبُو ذَرٍّ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَالَهْ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ:" إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ خَيْرًا، فَنَفَحَ فِيهِ يَمِينَهُ، وَشِمَالَهُ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ، وَوَرَاءَهُ، وَعَمِلَ فِيهِ خَيْرًا"، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَهُ سَاعَةً، فَقَالَ لِي: اجْلِسْ هَا هُنَا، قَالَ: فَأَجْلَسَنِي فِي قَاعٍ حَوْلَهُ حِجَارَةٌ، فَقَالَ لِي:" اجْلِسْ هَا هُنَا حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى لَا أَرَاهُ، فَلَبِثَ عَنِّي، فَأَطَالَ اللُّبْثَ، ثُمَّ إِنِّي سَمِعْتُهُ وَهُوَ مُقْبِلٌ وَهُوَ يَقُولُ:" وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى"، قَالَ: فَلَمَّا جَاءَ لَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ مَنْ تُكَلِّمُ فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَرْجِعُ إِلَيْكَ شَيْئًا، قَالَ:" ذَلِكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَرَضَ لِي فِي جَانِبِ الْحَرَّةِ، قَالَ: بَشِّرْ أُمَّتَكَ أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، وَإِنْ سَرَقَ وَإِنْ زَنَى قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ سَرَقَ، وَإِنْ زَنَى، قَالَ: نَعَمْ، وَإِنْ شَرِبَ الْخَمْرَ"، قَالَ النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، وَالْأَعْمَشُ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، بِهَذَا. قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ مُرْسَلٌ، لَا يَصِحُّ إِنَّمَا أَرَدْنَا لِلْمَعْرِفَةِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: مُرْسَلٌ أَيْضًا لَا يَصِحُّ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ، وَقَالَ: اضْرِبُوا عَلَى حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، هَذَا إِذَا مَاتَ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن رفیع نے، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک روز میں باہر نکلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تنہا چل رہے تھے اور آپ کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا، ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس سے میں سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پسند نہیں فرمائیں گے کہ آپ کے ساتھ اس وقت کوئی رہے۔ اس لیے میں چاند کے سائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ اس کے بعد آپ مڑے تو مجھے دیکھا اور دریافت فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا: ابوذر! اللہ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ابوذر! یہاں آؤ۔ بیان کیا کہ پھر میں تھوڑی دیر تک آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو لوگ (دنیا میں) زیادہ مال و دولت جمع کئے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہی خسارے میں ہوں گے۔ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہو اور انہوں نے اسے دائیں بائیں، آگے پیچھے خرچ کیا ہو اور اسے بھلے کاموں میں لگایا ہو۔ (ابوذر رضی اللہ عنہ نے) بیان کیا کہ پھر تھوڑی دیر تک میں آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں بیٹھ جاؤ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایک ہموار زمین پر بٹھا دیا جس کے چاروں طرف پتھر تھے اور فرمایا کہ یہاں اس وقت تک بیٹھے رہو جب تک میں تمہارے پاس لوٹ آؤں۔ پھر آپ پتھریلی زمین کی طرف چلے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ آپ وہاں رہے اور دیر تک وہیں رہے۔ پھر میں نے آپ سے سنا، آپ یہ کہتے ہوئے تشریف لا رہے تھے چاہے چوری ہو، چاہے زنا ہو ابوذر کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو مجھ سے صبر نہیں ہو سکا اور میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے۔ اس پتھریلی زمین کے کنارے آپ کس سے باتیں کر رہے تھے۔ میں نے تو کسی دوسرے کو آپ سے بات کرتے نہیں دیکھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ پتھریلی زمین (حرہ) کے کنارے وہ مجھ سے ملے اور کہا کہ اپنی امت کو خوشخبری سنا دو کہ جو بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا: اے جبرائیل! خواہ اس نے چوری کی ہو، زنا کیا ہو؟ جبرائیل علیہ السلام نے کہا ہاں، خواہ اس نے شراب ہی پی ہو۔ نضر نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی (کہا) ہم سے حبیب بن ابی ثابت، اعمش اور عبدالعزیز بن رفیع نے بیان کیا، ان سے زید بن وہب نے اسی طرح بیان کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابوصالح نے جو اسی باب میں ابودرداء سے روایت کی ہے وہ منقطع ہے (ابوصالح نے ابودرداء سے نہیں سنا) اور صحیح نہیں ہے ہم نے یہ بیان کر دیا تاکہ اس حدیث کا حال معلوم ہو جائے اور صحیح ابوذر کی حدیث ہے (جو اوپر مذکور ہوئی) کسی نے امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا عطاء بن یسار نے بھی تو یہ حدیث ابودرداء سے روایت کی ہے۔ انہوں نے کہا وہ بھی منقطع ہے اور صحیح نہیں ہے۔ آخر صحیح وہی ابوذر کی حدیث نکلی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ابودرداء کی حدیث کو چھوڑو (وہ سند لینے کے لائق نہیں ہے کیونکہ وہ منقطع ہے) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ابوذر کی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مرتے وقت آدمی «لا إله إلا الله» کہے اور توحید پر خاتمہ ہو (تو وہ ایک نہ ایک دن ضرور جنت میں جائے گا گو کتنا ہی گنہگار ہو)۔ بعض نسخوں میں یہ ہے «هذا اذا تاب وقال لا إله إلا الله عند الموت» یعنی ابوذر کی حدیث اس شخص کے بارے میں ہے جو گناہ سے توبہ کرے اور مرتے وقت «لا إله إلا الله» کہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6443]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6442) باب پر واپس اگلی حدیث (6444) →