بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 6415 — باب: آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں باب: آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے۔ حدیث 6415

Q6415 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِهِ تَعَالَى: أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الأَمْوَالِ وَالأَوْلادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة الحديد آية 20.
‏‏‏‏ اس کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ الحدید میں) فرمایا بلاشبہ دنیا کی زندگی محض ایک کھیل کود کی طرح ہے اور زینت ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے اور مال اولاد کو بڑھانے کی کوشش کا نام ہے، اس کی مثال اس بارش کی ہے جس کے سبزہ نے کاشتکاروں کو بھا لیا ہے، پھر جب اس کھیتی میں ابھار آتا ہے تو تم دیکھو گے کہ وہ پک کر زرد ہو چکا ہے۔ پھر وہ دانہ نکالنے کے لیے روند ڈالا جاتا ہے (یہی حال زندگی کا ہے) اور آخرت میں کافروں کے لیے سخت عذاب ہے اور مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی بھی ہے اور دنیا کی زندگی تو محض ایک دھوکے کا سامان ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: Q6415]
حدیث نمبر: 6415 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، سَهْلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، وَلَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے اور اللہ کے راستے میں صبح کو یا شام کو تھوڑا سا چلنا بھی «الدنيا وما فيها» سے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ/حدیث: 6415]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (6414) باب پر واپس اگلی حدیث (6416) →