أَحْمَدُ ، الْأَنْصَارِيُّ ، أَبِي ، ثُمَامَةَ ، أَنَسٍ
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، وَزَادَنِي أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ وَفِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ وَفِي يَدِ عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسَ، قَالَ: فَأَخْرَجَ الْخَاتَمَ فَجَعَلَ يَعْبَثُ بِهِ فَسَقَطَ"، قَالَ: فَاخْتَلَفْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مَعَ عُثْمَانَ فَنَزَحَ الْبِئْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ.
ترجمہ: مولانا داود راز
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اتنا اور روایت کیا، کہا مجھ سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگوٹھی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی۔ آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا تو وہ اریس کے کنویں پر ایک مرتبہ بیٹھے، بیان کیا کہ پھر انگوٹھی نکالی اور اسے الٹنے پلٹنے لگے کہ اتنے میں وہ (کنویں میں) گر گئی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم تین دن تک اسے ڈھونڈتے رہے اور کنویں کا سارا پانی بھی کھینچ ڈالا لیکن وہ انگوٹھی نہیں ملی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب اللِّبَاسِ/حدیث: 5879]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة