بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5461 — باب: کسی شخص کی کھانے کی دعوت ہو۔
کتب صحیح بخاری کتاب: کھانوں کے بیان میں باب: کسی شخص کی کھانے کی دعوت ہو۔ حدیث 5461

Q5461 حوالہ جات (References)

وَقَالَ أَنَسٌ:" إِذَا دَخَلْتَ عَلَى مُسْلِمٍ لَا يُتَّهَمُ فَكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَاشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ".
‏‏‏‏ اور دوسرا شخص بھی اس کے ساتھ طفیلی ہو جائے تو اجازت لینے کے لیے وہ کہے کہ یہ بھی میرے ساتھ آ گیا ہے اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب تم کسی ایسے مسلمان کے گھر جاؤ (جو اپنے دین و مال میں) غلط کاموں سے بدنام نہ ہو تو اس کا کھانا کھاؤ اور اس کا پانی پیو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: Q5461]
حدیث نمبر: 5461 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٌ ، أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ:" كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُكْنَى أَبَا شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ فَعَرَفَ الْجُوعَ فِي وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ إِلَى غُلَامِهِ اللَّحَّامِ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا يَكْفِي خَمْسَةً لَعَلِّي أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ، فَصَنَعَ لَهُ طُعَيِّمًا، ثُمَّ أَتَاهُ فَدَعَاهُ، فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا شُعَيْبٍ، إِنَّ رَجُلًا تَبِعَنَا فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ، قَالَ: لَا، بَلْ أَذِنْتُ لَهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے، اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ جماعت انصار کے ایک صحابی ابوشعیب رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک سے فاقہ کا اندازہ لگا لیا۔ چنانچہ وہ اپنے گوشت فروش غلام کے پاس گئے اور کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ دعوت دوں گا۔ غلام نے کھانا تیار کر دیا۔ اس کے بعد ابوشعیب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ کو کھانے کی دعوت دی۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوشعیب! یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر تم چاہو تو انہیں بھی اجازت دے دو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5461]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5460) باب پر واپس اگلی حدیث (5462) →