عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، يُونُسَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، قَالَ عَلِيٌّ هُوَ الْإِسْكَافُ: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مَا عَلِمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ عَلَى سُكْرُجَةٍ قَطُّ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَطُّ وَلَا أَكَلَ عَلَى خِوَانٍ قَطُّ"، قِيلَ لِقَتَادَةَ:" فَعَلَى مَا كَانُوا يَأْكُلُونَ؟ قَالَ: عَلَى السُّفَرِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، علی بن عبداللہ المدینی نے کہا کہ یہ یونس اسکاف ہیں (نہ کہ یونس بن عبید بصریٰ) ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی تشتری رکھ کر (ایک وقت مختلف قسم کا) کھانا کھایا ہو اور نہ کبھی آپ نے پتلی روٹیاں (چپاتیاں) کھائیں اور نہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میز پر کھایا۔ قتادہ سے پوچھا گیا کہ پھر کس چیز پر آپ کھاتے تھے؟ کہا کہ آپ سفرہ (عام دستر خوان) پر کھانا کھایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ/حدیث: 5386]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة