بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5337 — باب: جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے۔
کتب صحیح بخاری کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان باب: جس عورت کا شوہر مر جائے وہ چار مہینے دس دن تک سوگ منائے۔ حدیث 5337

Q5334 حوالہ جات (References)

وَقَالَ الزُّهْرِيُّ:" لَا أَرَى أَنْ تَقْرَبَ الصَّبِيَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا الطِّيبَ لِأَنَّ عَلَيْهَا الْعِدَّةَ".
‏‏‏‏ زہری نے کہا کہ کم عمر لڑکی کا شوہر بھی اگر انتقال کر گیا ہو تو میں اس کے لیے بھی خوشبو کا استعمال جائز نہیں سمجھتا کیونکہ اس پر بھی عدت واجب ہے۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے، انہیں حمید بن نافع نے اور انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان تین احادیث کی خبر دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: Q5334]
حدیث نمبر: 5337 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قَالَ حُمَيْدٌ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعَرَةِ عَلَى رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَائِرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلاَّ مَاتَ، ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَى بَعَرَةً فَتَرْمِي، ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ. سُئِلَ مَالِكٌ مَا تَفْتَضُّ بِهِ قَالَ تَمْسَحُ بِهِ جِلْدَهَا.
ترجمہ: مولانا داود راز
حمید نے بیان کیا کہ میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے کہ سال بھر تک مینگنی پھینکنی پڑتی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک نہایت تنگ و تاریک کوٹھڑی میں داخل ہو جاتی۔ سب سے برے کپڑے پہنتی اور خوشبو کا استعمال ترک کر دیتی۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں ایک سال گزر جاتا پھر کسی چوپائے گدھے یا بکری یا پرندہ کو اس کے پاس لایا جاتا اور وہ عدت سے باہر آنے کے لیے اس پر ہاتھ پھیرتی۔ ایسا کم ہوتا تھا کہ وہ کسی جانور پر ہاتھ پھیر دے اور وہ مر نہ جائے۔ اس کے بعد وہ نکالی جاتی اور اسے مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینکتی۔ اب وہ خوشبو وغیرہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتی تھی۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ «تفتض به» کا کیا مطلب ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس کا جسم چھوتی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5337]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5336) باب پر واپس اگلی حدیث (5338) →