بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5301 — باب: لعان کا بیان۔
کتب صحیح بخاری کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان باب: لعان کا بیان۔ حدیث 5301

Q5300 حوالہ جات (References)

وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ إِلَى قَوْلِهِ: إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6 - 9 فَإِذَا قَذَفَ الْأَخْرَسُ امْرَأَتَهُ بِكِتَابَةٍ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ بِإِيمَاءٍ مَعْرُوفٍ فَهُوَ كَالْمُتَكَلِّمِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَازَ الْإِشَارَةَ فِي الْفَرَائِضِ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا سورة مريم آية 29، وَقَالَ الضَّحَّاكُ: إِلا رَمْزًا سورة آل عمران آية 41 إِلَّا إِشَارَةً، وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لَا حَدَّ وَلَا لِعَانَ، ثُمَّ زَعَمَ: أَنَّ الطَّلَاقَ بِكِتَابٍ أَوْ إِشَارَةٍ أَوْ إِيمَاءٍ جَائِزٌ وَلَيْسَ بَيْنَ الطَّلَاقِ وَالْقَذْفِ فَرْقٌ، فَإِنْ قَالَ: الْقَذْفُ لَا يَكُونُ إِلَّا بِكَلَامٍ، قِيلَ لَهُ: كَذَلِكَ الطَّلَاقُ لَا يَجُوزُ إِلَّا بِكَلَامٍ، وَإِلَّا بَطَلَ الطَّلَاقُ وَالْقَذْفُ، وَكَذَلِكَ الْعِتْقُ وَكَذَلِكَ الْأَصَمُّ يُلَاعِنُ. وَقَالَ الشَّعْبِيُّ وَقَتَادَةُ إِذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ. فَأَشَارَ بِأَصَابِعِهِ، تَبِينُ مِنْهُ بِإِشَارَتِهِ. وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ الأَخْرَسُ إِذَا كَتَبَ الطَّلاَقَ بِيَدِهِ لَزِمَهُ. وَقَالَ حَمَّادٌ الأَخْرَسُ وَالأَصَمُّ إِنْ قَالَ بِرَأْسِهِ جَازَ.
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ نے (سورۃ النور میں) فرمایا «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم‏» اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس ان کی ذات کے سوا کوئی گواہ نہ ہو۔ آخر آیت «من الصادقين‏» تک۔ اگر گونگا اپنی بیوی پر لکھ کر، اشارہ سے یا کسی مخصوص اشارہ سے تہمت لگائے تو اس کی حیثیت بولنے والے کی سی ہو گی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرائض میں اشارہ کو جائز قرار دیا ہے اور یہی بعض اہل حجاز اور بعض دوسرے اہل علم کا فتویٰ ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فأشارت إليه قالوا كيف نكلم من كان في المهد صبيا‏» اور (مریم علیہا السلام نے) ان کی (عیسیٰ علیہ السلام) طرف اشارہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ ہم اس سے کس طرح گفتگو کر سکتے ہیں جو ابھی گہوارہ میں بچہ ہے۔ اور ضحاک نے کہا کہ «إلا رمزا‏» بمعنی «إشارة‏.‏» ہے۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ( «إشارة‏.‏» سے) حد اور لعان نہیں ہو سکتی ہے۔ جبکہ وہ یہ مانتے ہیں کہ طلاق کتابت، اشارہ اور ایماء سے ہو سکتی ہے۔ حالانکہ طلاق اور تہمت صرف کلام ہی کے ذریعہ مانی جائے گی تو ان سے کہا جائے گا کہ پھر یہی صورت طلاق میں بھی ہونی چاہیئے اور وہ بھی صرف کلام ہی کے ذریعہ معتبر مانا جانا چاہیئے ورنہ طلاق اور تہمت (اگر اشارہ سے ہو) تو سب کو باطل ماننا چاہیئے اور (اشارہ سے غلام کی) آزادی کا بھی یہی حشر ہو گا اور یہی صورت لعان کرنے والے گونگے کے ساتھ بھی پیش آئے گی۔ اور شعبی اور قتادہ نے بیان کیا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے اور اپنی انگلیوں سے اشارہ کیا تو وہ مطلقہ بائنہ ہو جائے گی۔ ابراہیم نے کہا کہ گونگا اگر طلاق اپنے ہاتھ سے لکھے تو وہ پڑ جاتی ہے۔ حماد نے کہا کہ گونگے اور بہرے اپنے سر سے اشارہ کریں تو جائز ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: Q5300]
حدیث نمبر: 5301 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، أَبُو حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ أَبُو حَازِمٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ، أَوْ كَهَاتَيْنِ، وَقَرَنَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ابوحازم نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میری بعثت قیامت سے اتنی قریب ہے جیسے اس کی اس سے (یعنی شہادت کی انگلی بیچ کی انگلی سے) یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (راوی کو شک تھا) کہ جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5300) باب پر واپس اگلی حدیث (5302) →