بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5299 — باب: اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے؟
کتب صحیح بخاری کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان باب: اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے؟ حدیث 5299

Q5293 حوالہ جات (References)

وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُعَذِّبُ اللَّهُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا، فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ"، وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَيْ خُذْ النِّصْفَ، وَقَالَتْ أَسْمَاءُ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ وَهِيَ تُصَلِّي؟ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى الشَّمْسِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ"، وَقَالَ أَنَسٌ: أَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ لَا حَرَجَ، وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ:" آحَدٌ مِنْكُمْ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكُلُوا".
‏‏‏‏ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں دے گا لیکن اس پر عذاب دے گا، اس وقت آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا (کہ نوحہ عذاب الٰہی کا باعث ہے)۔ اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک قرض کے سلسلہ میں جو میرا ایک صاحب پر تھا) میری طرف اشارہ کیا کہ آدھا لے لو (اور آدھا چھوڑ دو)۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسوف کی نماز پڑھ رہے تھے (میں پہنچی اور) عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے سر سے سورج کی طرف اشارہ کیا (کہ یہ سورج گرہن کی نماز ہے) میں نے کہا، کیا یہ کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اپنے سر کے اشارہ سے بتایا کہ ہاں اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں اور ابوقتادہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محرم کے شکار کے سلسلے میں دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے شکاری کو شکار مارنے کے لیے کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر (اس کا گوشت) کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: Q5293]
حدیث نمبر: 5299 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
اللَّيْثُ ، جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُنْفِقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَأَمَّا الْمُنْفِقُ فَلَا يُنْفِقُ شَيْئًا إِلَّا مَادَّتْ عَلَى جِلْدِهِ حَتَّى تُجِنَّ بَنَانَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَأَمَّا الْبَخِيلُ فَلَا يُرِيدُ يُنْفِقُ إِلَّا لَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا فَهُوَ يُوسِعُهَا فَلَا تَتَّسِعُ"، وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ إِلَى حَلْقِهِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
اور لیث نے بیان کیا کہ ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور سخی کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں سینے سے گردن تک ہیں۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو زرہ اس کے چمڑے پر ڈھیلی ہو جاتی ہے اور اس کے پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے (اور پھیل کر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ) اس کے نشان قدم کو مٹاتی چلتی ہے لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ نے اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5299]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5298) باب پر واپس اگلی حدیث (5300) →