بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5295 — باب: اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے؟
کتب صحیح بخاری کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان باب: اگر طلاق وغیرہ اشارے سے دے مثلاً کوئی گونگا ہو تو کیا حکم ہے؟ حدیث 5295

Q5293 حوالہ جات (References)

وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُعَذِّبُ اللَّهُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا، فَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ"، وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: أَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَيْ خُذْ النِّصْفَ، وَقَالَتْ أَسْمَاءُ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ وَهِيَ تُصَلِّي؟ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى الشَّمْسِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ نَعَمْ"، وَقَالَ أَنَسٌ: أَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَوْمَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ لَا حَرَجَ، وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ:" آحَدٌ مِنْكُمْ أَمَرَهُ أَنْ يَحْمِلَ عَلَيْهَا أَوْ أَشَارَ إِلَيْهَا، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَكُلُوا".
‏‏‏‏ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آنکھ کے آنسو پر عذاب نہیں دے گا لیکن اس پر عذاب دے گا، اس وقت آپ نے زبان کی طرف اشارہ کیا (کہ نوحہ عذاب الٰہی کا باعث ہے)۔ اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک قرض کے سلسلہ میں جو میرا ایک صاحب پر تھا) میری طرف اشارہ کیا کہ آدھا لے لو (اور آدھا چھوڑ دو)۔ اسماء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسوف کی نماز پڑھ رہے تھے (میں پہنچی اور) عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے سر سے سورج کی طرف اشارہ کیا (کہ یہ سورج گرہن کی نماز ہے) میں نے کہا، کیا یہ کوئی نشانی ہے؟ انہوں نے اپنے سر کے اشارہ سے بتایا کہ ہاں اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ آگے بڑھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں اور ابوقتادہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے محرم کے شکار کے سلسلے میں دریافت فرمایا کہ کیا تم میں سے کسی نے شکاری کو شکار مارنے کے لیے کہا تھا یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر (اس کا گوشت) کھاؤ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: Q5293]
حدیث نمبر: 5295 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
الْأُوَيْسِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وَقَالَ الْأُوَيْسِيُّ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ شُعْبَةَ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" عَدَا يَهُودِيٌّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَارِيَةٍ، فَأَخَذَ أَوْضَاحًا كَانَتْ عَلَيْهَا، وَرَضَخَ رَأْسَهَا، فَأَتَى بِهَا أَهْلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ فِي آخِرِ رَمَقٍ وَقَدْ أُصْمِتَتْ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَكِ؟ فُلَانٌ لِغَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَنْ لَا، قَالَ: فَقَالَ لِرَجُلٍ آخَرَ غَيْرِ الَّذِي قَتَلَهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ لَا، فَقَالَ: فَفُلَانٌ لِقَاتِلِهَا، فَأَشَارَتْ أَنْ نَعَمْ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُضِخَ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ترجمہ: مولانا داود راز
اور اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے ہشام بن یزید نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5295]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5294) باب پر واپس اگلی حدیث (5296) →