إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، خَالِدٌ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عِكْرِمَةَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، خَالِدٍ ، عِكْرِمَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ،" أَنَّ أُخْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ بِهَذَا، وَقَالَ: تَرُدِّينَ حَدِيقَتَهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْهَا، وَأَمَرَهُ يُطَلِّقْهَا". وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَطَلِّقْهَا.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی (منافق) کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہا (جو ابی کی بیٹی تھی) نے یہ بیان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان (ثابت رضی اللہ عنہ) کا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اور (اس روایت میں بیان کیا کہ) ان کے شوہر (ثابت رضی اللہ عنہ) نے انہیں طلاق دے دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5274]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة