مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، إِسْمَاعِيلَ ، عَامِرٌ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْخِيَرَةِ؟ فَقَالَتْ:" خَيَّرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَكَانَ طَلَاقًا؟" قَالَ مَسْرُوقٌ: لَا أُبَالِي أَخَيَّرْتُهَا وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ”اختیار“ کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا محض یہ اختیار طلاق بن جاتا۔ مسروق نے کہا کہ اختیار دینے کے بعد اگر تم مجھے پسند کر لیتی ہو تو اس کی کوئی حیثیت نہیں، چاہے میں ایک مرتبہ اختیار دوں یا سو مرتبہ (طلاق نہیں ہو گی)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5263]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة