بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5260 — باب: اگر کسی نے تین طلاق دے دی تو جس نے کہا کہ تینوں طلاق پڑ جائیں گی اس کی دلیل۔
کتب صحیح بخاری کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان باب: اگر کسی نے تین طلاق دے دی تو جس نے کہا کہ تینوں طلاق پڑ جائیں گی اس کی دلیل۔ حدیث 5260

Q5259 حوالہ جات (References)

لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ سورة البقرة آية 229.
‏‏‏‏ اور اللہ پاک نے سورۃ البقرہ میں فرمایا طلاق دو بار ہے۔ اس کے بعد یا دستور کے موافق عورت کو رکھ لینا چاہیئے یا اچھی طرح رخصت کر دینا۔ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر کسی بیمار شخص نے اپنی عورت کو طلاق بائن دے دی تو وہ اپنے خاوند کی وارث نہ ہو گی اور عامر شعبی نے کہا وارث ہو گی۔ (اس کو سعید بن منصور نے وصل کیا) اور ابن شبرمہ (کوفہ کے قاضی) نے شعبی سے کہا، کیا وہ عورت عدت کے بعد دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں۔ ابن شبرمہ نے کہا، پھر اگر اس کا دوسرا خاوند بھی مر جائے (تو وہ کیا دونوں کی وارث ہو گی؟) اس پر شعبی نے اپنے فتوے سے رجوع کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: Q5259]
حدیث نمبر: 5260 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، اللَّيْثُ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ،" أَنَّ امْرَأَةَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، وَإِنِّي نَكَحْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ الْقُرَظِيَّ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ، لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! رفاعہ نے مجھے طلاق دے دی تھی اور طلاق بھی بائن، پھر میں نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا لیکن ان کے پاس تو کپڑے کے پلو جیسا ہے (یعنی وہ نامرد ہیں)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً تم رفاعہ کے پاس دوبارہ جانا چاہتی ہو لیکن ایسا اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تم اپنے موجودہ شوہر کا مزا نہ چکھ لو اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھ لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 5260]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5259) باب پر واپس اگلی حدیث (5261) →