بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح بخاری

حدیث نمبر: 5250 — باب: ایک مرد کا دوسرے سے یہ پوچھنا کہ کیا تم نے رات اپنی عورت سے صحبت کی ہے؟ اور کسی شخص کا اپنی بیٹی کے کوکھ میں غصہ کی وجہ سے مارنا۔
کتب صحیح بخاری کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان باب: ایک مرد کا دوسرے سے یہ پوچھنا کہ کیا تم نے رات اپنی عورت سے صحبت کی ہے؟ اور کسی شخص کا اپنی بیٹی کے کوکھ میں غصہ کی وجہ سے مارنا۔ حدیث 5250
حدیث نمبر: 5250 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ" عَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ وَجَعَلَ يَطْعُنُنِي بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے، انہیں ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (ان کے والد) ابوبکر رضی اللہ عنہ ان پر غصہ ہوئے اور میری کوکھ میں ہاتھ سے کچوکے لگانے لگے لیکن میں حرکت اس وجہ سے نہ کر سکی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر مبارک میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5250]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
← پچھلی حدیث (5249) باب پر واپس اگلی حدیث (5251) →