عَبْدَانُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسَ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَتَوَضَّأُ إِلَى جَانِبِ قَصْرٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا لِعُمَرَ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا، فَبَكَى عُمَرُ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ، ثُمَّ قَالَ: أَوَعَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغَارُ".
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ خواب میں میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک محل کے کنارے ایک عورت وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ فرشتے نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ میں ان کی غیرت کا خیال کر کے واپس چلا آیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جو اس وقت مجلس میں موجود تھے اس پر رو دیئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5227]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة