عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ لَهَا: لَعَلَّكِ أَرَدْتِ الْحَجَّ؟ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَجِدُنِي إِلَّا وَجِعَةً، فَقَالَ لَهَا: حُجِّي وَاشْتَرِطِي، وَقُولِي: اللَّهُمَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي"، وَكَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ.
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے (یہ زبیر عبدالمطلب کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا تھے) اور ان سے فرمایا شاید تمہارا ارادہ حج کا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار پاتی ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ پھر بھی حج کا احرام باندھ لے۔ البتہ شرط لگا لینا اور یہ کہہ لینا کہ اے اللہ! میں اس وقت حلال ہو جاؤں گی جب تو مجھے (مرض کی وجہ سے) روک لے گا۔ اور (ضباعہ بنت زبیر قریشی رضی اللہ عنہا) مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 5089]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة