قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكٍ ، يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَمَّنْ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ , عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ , عَمَّنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ:" صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ , وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ , فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ , وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ , ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ" ,
ترجمہ: مولانا داود راز
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے ‘ ان سے یزید بن رومان نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ایک ایسے صحابی سے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں شریک تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز خوف پڑھی تھی۔ اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ پہلے ایک جماعت نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ اس وقت دوسری جماعت (مسلمانوں کی) دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس جماعت کو جو آپ کے پیچھے صف میں کھڑی تھی ‘ ایک رکعت نماز خوف پڑھائی اور اس کے بعد آپ کھڑے رہے۔ اس جماعت نے اس عرصہ میں اپنی نماز پوری کر لی اور واپس آ کر دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری جماعت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں نماز کی دوسری رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی اور (رکوع و سجدہ کے بعد) آپ قعدہ میں بیٹھے رہے۔ پھر ان لوگوں نے جب اپنی نماز (جو باقی رہ گئی تھی) پوری کر لی تو آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4129]
تخریج الحدیث
«أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة